قطری خط بند لفافے میں ملا، اسی حالت میں فاضل عدالت کو پیش کیا، وکیل اکرم شیخ akram sheikh
The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس: قطری خط موکل کی ہدایت کے مطابق پیش کیا، وکیل اکرم شیخ

اسلام آباد : پاناما کیس میں وزیراعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے کہا ہے کہ پاناما کیس میں جو کچھ کیا وہ موکل کی ہدایات پر اور اپنی رائے کے برعکس کیا، میں وزیراعظم کا نہیں  ان کے بچوں کے وکیل ہوں جومجھے  بچوں کی طرح عزیز ہیں۔

اے آر وائی نیوز سے ٹیلی فونک گفت گو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے کہا کہ مجھے قطری خط بند لفافے میں دیا گیا اور ہدایت کی گئی تھی کہ اسی حالت میں بنا کھولے فاضل عدالت کے سامنے پیش کروں کیوں کہ قطری شہزادے حماد بن جاسم چاہتے ہیں کہ یہ دستاویز صرف عدالت کے پیش نظر رکھا جائے۔

اکرم شیخ ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ موکلان کو کیس سے متعلق دیانت داری سے مشورے دیے جسے انہوں نے قبول کیا اور کئی بار اپنی رائے کے برعکس موکلان کی ہدایات پر عمل کرنے کا پابند تھا کیوں کہ میں کوئی بھی کام موکل کی مرضی کے بغیر نہیں کیا کرتا اور 30 برس سے آئین، قانون اور رواداری کی اسی طرح نگہداشت کرتا آیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ روز ہی وطن لوٹا ہوں اور ایک نجی چینل کے ٹاک شو میں سنا کہ وزیراعظم اپنے پینل کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور قطری خط کو عدالت میں پیش کرنے کے انداز سے خوش نہیں حالانکہ میں وزیراعظم کا نہیں بلکہ ان کے بچوں کے وکیل ہوں جوکہ مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہیں۔

واضح رہے کہ ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم اپنے وکلا کی ٹیم سے خوش نہیں ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وکلا نے دیانت داری سے کام نہیں کیا اورقطری خط کو غیر پیشہ ورانہ انداز میں عدالت میں پیش کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں