منگل, اپریل 14, 2026
اشتہار

صدیوں پرانے قاہرہ کی جامعۃ الازھر

اشتہار

حیرت انگیز

انیسویں صدی سے قاہرہ سیاحت کا مرکز بن چکا ہے جہاں سیاح ہر سال کھنچے چلے آتے ہیں، لیکن ان کی اکثریت خاص طور پر قدیم مصر کو دیکھنے میں دل چسپی رکھتی ہے۔ مصر کے اہرام، فرعون کے محلات، قید خانے اور دوسری طرف وہ مقابر اور کئی دوسری عمارتیں بھی ان کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں جن کی سیر ناقابل یقین واقعات کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔

انہی قدیم اور قابلِ توجہ عمارتوں میں قاہرہ کی جامعہ الازھر بھی شامل ہے۔ قاہر میں موجود کم و بیش ایک ہزار سال پرانی اور مسلم دنیا میں ممتاز اسلامی علوم کی سب سے بڑی درس گاہ جامعہ الازھر نہ صرف اپنی علمی وجاہت اور قد کاٹھ میں ایک بلند مقام رکھتی ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے فنِ تعمیر کا شاہکار بھی ہے۔

مسلمان معماروں نے اپنے عہد میں جامع مسجد الازھر کی تعمیر کو جس جذبے اور اسلامی شان و شکوہ کی مثال بنانے کی غرض سے تعمیر کیا ہوگا، وہ بلاشبہ قابلِ ستائش ہے۔ آج بھی یہ عمارت مسلم معماروں کی فن کاری کی یاد تازہ کرتی ہے۔ دراصل یہ جامع مسجد ہے جس کا ڈیزائن بہت حد تک تیونس میں موجود دو مشہور مساجد جن میں القیروان شہر کی جامع مسجد عقبہ بن نافع اور دارالحکومت تیونسیہ کی جامع مسجد الزیتونہ شامل ہے، ان سے بہت حد تک مماثل ہے۔

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوگا کہ اسے صقلیہ سے تعلق رکھنے والے ایک فاطمی مسلمان گورنر المعزالدین اللہ الفاطمی کے حکم پر 970ء میں تعمیر کرنا شروع کیا گیا تھا۔ اس کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد مسجد کی تعمیر میں تقریباً 28 ماہ لگے تھے۔ اوّل اوّل اسے جامع مسجد القاہرہ کہا جاتا تھا۔ کچھ عرصے بعد اسے فاطمی حکمرانوں نے جامع مسجد الزہرا اور پھر الازہر کا نام دے دیا۔ 11 ہزار 500 مربع میٹر رقبے پر پھیلی یہ درس گاہ تمام عالم میں مشہور ہوئی اور آج مصر کی پہچان بن چکی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں