جامعہ الازہر نے جنسی ہراسانی کو حرام قراردے دیا -
The news is by your side.

Advertisement

جامعہ الازہر نے جنسی ہراسانی کو حرام قراردے دیا

قاہرہ : مصرکی سب سے اعلیٰ مذہبی اتھارٹی نے کہا ہے کہ جنسی ہراسانی کی کسی طور بھی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی، مصر میں زیادہ تر لوگ ہراسانی کا شکار بننے والی خواتین کو ہی اس نوعیت کے واقعات کاقصور وا ر ٹھہراتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عالم اسلام کی قدیم ترین جامعات میں شمار ہونے والی جامعہ الازہر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ کسی بھی قسم کی جنسی ہراسانی ایک حرام عمل ہے اور یہ گمراہ کن رویہ ہے‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جوکوئی بھی اس عمل کا مرتکب ہوگا ، وہ از خود گناہ گار ہوگا۔

پیر کے روز جاری ہونے والے اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنسی ہراسانی کو جرم قرار دینے میں کوئی پس و پیش اور شرائط نہیں ہونی چاہیے۔ خواتین کے رویے اور ان کے لباس کو ہراسانی کا سبب قراردینا غلط فہمی ہے۔ جنسی ہراسانی خواتین پر ، ان کی آزادی اور آبرو پر حملہ ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 2017 میں ہونے والے یو این ویمن کی جانب سے کی گئی ایک سروے رپورٹ میں مصر کی 60 فیصد خواتین نے کہا تھا کہ انہیں زندگی میں کبھی نہ کبھی ، جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے ، چاہے وہ اس کی سب سے کمتر قسم کیوں نہ ہو۔

دوسری جانب دو تہائی مردوں اور 84 فیصد خواتین نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ وہ خواتین جو لذتِ گناہ کی دعوت دیتا لباس زیب تن کرتی ہیں، وہ مستحق ہیں کہ انہیں ہراساں کیا جائے‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں