The news is by your side.

Advertisement

جے آئی ٹی کے والیم 10 سے متعلق سوال پرنیب پراسیکیوٹرکا اعتراض

اسلام آباد : احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کیس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے احتساب عدالت میں آج بھی استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء پر جرح کی۔

نوازشریف کے وکیل نے سوال کیا کہ والیم 10 رجسٹرار سپریم کورٹ کی موجودگی میں سیل کیا یا نہیں؟ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ آپ ڈیڑھ سال پرانی بات پوچھ رہے اب مجھے یاد نہیں۔

خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے پوچھا کہ کیا آپ کے سامنے والیم 10 سیل ہوا جس پر جے آئی سربراہ نے جواب دیا کہ والیم 10میرے سامنے سیل کیا گیا، نہیں کہہ سکتاعدالت میں ریکارڈ پہنچانے سے پہلے اسے سیل کیا گیا۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ وہ آرڈر کہاں ہے جس میں والیم 10سیل یا پیک نہ کرنے کا حکم ہے، نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ والیم 10کے حصول کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دینی چاہیے تھی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس سے متعلق خواجہ حارث گواہ واجد ضیاء سے سوالات نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ جب کاپیاں دی گئی تھیں تب والیم 10 کے لیے درخواست دیتے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ میں ابھی درخواست دے دیتا ہوں، میں نے بے معنی اور بے تکے سوال نہیں پوچھنے۔ انہوں نے کہا کہ والیم 10 سے متعلق 3 سے 4 سوال اورپوچھوں گا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایم ایل اے اور سپریم کورٹ کا آرڈر دو مختلف چیزیں ہیں۔

خواجہ حارث نے سعودی حکام کو31مئی2017 کو لکھا گیا ایم ایل اے ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی جس کی نیب کی جانب سے مخالفت کی گئی۔

ایم ایل اے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے یا نہیں اس سے متعلق دونوں فریقین کل دلائل دیں گے۔

بعدازاں احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مسلم لیگ ن کے قائد کی جانب سے ان کے وکیل نے گزشتہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی جسے احتساب عدالت نے منظور کرلیا تھا۔

نوازشریف کے وکیل نے واجد ضیاء سے پوچھا تھا کہ کیا سپریم کورٹ نے تحریری طورپروالیم 10 سیل کرنے کا حکم دیا تھا؟ جس پرگواہ نے جواب دیا تھا کہ سپریم کورٹ نے زبانی کہا تھا لیکن تحریری حکم نہیں تھا۔

خواجہ حارث نے سوال کیا تھا کوئی تحریری حکم ہے جووالیم 10 سیل کرکے جمع کرایا جائے؟ جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا تھا کہ میرے پاس کوئی تحریری حکم نامہ نہیں۔

جے آئی ٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پروالیم 10سیل کرکے رجسٹرارآفس میں جمع کرایا تھا، جے آئی ٹی ممبران نے والیم 10سیل کرکے جمع کرایا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں