العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔ سماعت میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا پر جرح کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں پابند سلاسل سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت پہنچایا گیا، نواز شریف کے قافلے میں موبائل جیمرز اور ایمبولینس شامل تھیں۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر اور نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے درمیان گرما گرمی ہوگئی۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ طے ہوا تھا خواجہ صاحب آج جرح ختم کریں گے، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے کہا تھا پورا دن مل جائے تو جرح ختم کرلوں گا۔ ہائیکورٹ جانا ہے جرح کے بجائے ایم ایل اے کی درخواست پر دلائل سن لیں۔

جج نے کہا کہ جرح کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اسے ختم ہونا چاہیئے۔

نیب کے وکیل مظفر عباسی نے کہا کہ کئی ماہ سے ایک ہی گواہ پر جرح کر رہے ہیں، عدالت جرح غیر ضروری سمجھتی ہے تو زبانی درخواست پر حق ختم کر دے، عدالت کے سامنے گزارشات رکھنے پر یہ لڑتے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ روز اعتراض اٹھایا جاتا ہے آج 3 ماہ ہو گئے آج 6 ماہ ہو گئے۔ عدالت کا ماحول تلخ ہونے پر جج نے 10 منٹ کا وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو خواجہ حارث نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا پر جرح کی۔

خواجہ حارث نے دریافت کیا کہ کیا اپ ہینڈنگ اور ٹیکنگ اوور کی فہرست دکھا سکتے ہیں جس پر واجد ضیا نے ریکارڈ میں سے فہرست نکال کر دکھا دی۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزات 24 جولائی 2017 سے پہلے سپریم کورٹ میں جمع ہوئیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ والیم 9 اور 9 اے کی دستاویزات بھی آپ پہلے جمع کروا چکے تھے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ایم ایل اے کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے دلائل کے بعد دستاویزات کی فہرست کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔

احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔ اگلی سماعت پر بھی خواجہ حارث واجد ضیا پر جرح جاری رکھیں گے۔

گزشتہ سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا تھا کہ امید ہے ہائیکورٹ میں دلائل مکمل ہو جائیں گے، کل کیس زیر سماعت ہونے کے باعث دلائل مکمل نہ ہوسکے۔

بعد ازاں احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کل تک کلثوم نواز کی صحت کے لیے دعا کر رہے تھے، آج ان کی مغفرت کے لیے دعا کر رہے ہے۔

خواجہ حارث نے اس سے قبل سماعت پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا سے سوال کیا تھا کہ وہ آرڈر کہاں ہے جس میں والیم 10 سیل یا پیک نہ کرنے کا حکم ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا تھا کہ والیم 10 کے حصول کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دینی چاہیئے تھی۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اس سے متعلق خواجہ حارث گواہ واجد ضیا سے سوالات نہیں کر سکتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب کاپیاں دی گئی تھیں تب والیم 10 کے لیے درخواست دے دیتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں