The news is by your side.

Advertisement

ستارے جذب ہوئے گردِ راہ میں کیا کیا

نام وَر نقاد، صاحبِ طرز ادیب اور شاعر آل احمد سرور کی ایک غزل

آل احمد سرور بدایوں کے تھے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد جامعات کے شعبۂ اردو میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ سرور نے ادب کے مطالعے کے ساتھ قلم تھاما اور شاعری اور تنقید نگاری میں نام و مقام بنایا۔

ان کی غزلوں اور نظموں میں فکر انگیزی، کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ تازہ کاری ملتی ہے۔ اردو ادب کے اس نام وَر کی ایک غزل آپ کے حسنِ‌ مطالعہ کی نذر ہے۔

وہ احتیاط کے موسم بدل گئے کیسے
چراغ دل کے اندھیرے میں جل گئے کیسے

بنا دیا تھا زمانے نے برف کے مانند
ہم ایک شوخ کرن سے پگھل گئے کیسے

امید جن سے تھی وضعِ جنوں نبھانے کی
وہ لوگ وقت کے سانچے میں ڈھل گئے کیسے

ستارے جذب ہوئے گردِ راہ میں کیا کیا
خیال و خواب کے آئیں بدل گئے کیسے

خزاں سے جن کو بچا لائے تھے جتن کر کے
وہ نخل اب کے بہاروں میں جل گئے کیسے

نہ جانے کیوں جنہیں سمجھے تھے ہم فرشتے ہیں
قریب آئے تو چہرے بدل گئے کیسے

ہر ایک سایۂ دیوار کی لپیٹ میں ہے
سرورؔ آپ ہی بچ کر نکل گئے کیسے

Comments

یہ بھی پڑھیں