The news is by your side.

Advertisement

افغانستان سے القاعدہ کے اہم کمانڈر کی گرفتاری کا دعویٰ

کابل: افغان فورسز کی طالبان کے بعد القاعدہ کے خلاف بھی تابڑتوڑ کارروائیاں جاری ہیں، رواں سال کے دوران متعدد اہم اراکین کی گرفتاریاں اور ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق القاعدہ جنگجو طالبان کے ساتھ مل کر 2014 میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں پھیلے، اور افغان فورسز سمیت امریکی فوجیوں کو بھی شانہ بنانا شروع کردیا۔

ادھر افغان میڈیا نے افغان صوبے ہلمند سے القاعدہ کے اہم کمانڈر کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے تاہم اس شدت پسند سے متعلق کوئی شناخت اور تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

حال ہی میں افغانستان کے صوبے غزنی کے ضلع گیرو میں افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کی فضائی کارروائی میں القاعدہ برصغیر (قاری عارف گروپ) کے درجنوں دہشت گرد مارے گئے تھے۔

افغان حکام نے شدت پسندوں کے خلاف ہرممکن کارروائیوں کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب عسکریت پسندوں کی جانب سے بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ڈرون حملہ میں القاعدہ کاکمانڈر مارا گیا‘ امریکی میڈیا

افغانستان کے علاوہ شام میں بھی اتحادی افواج القاعدہ اور داعش کے خلاف سرگرم ہیں، مارچ 2017 میں امریکی محکمہ دفاع نے کہا تھا کہ کہ شام کے شہر ادلب کے قریب امریکا کی دوفضائی کارروائیوں میں القاعدہ کے 11 ارکان ہلاک ہوئے، جن میں اسامہ بن لادن کا ایک سابق ساتھی بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ 2 دسمبر 2018 کو افغانستان کے صوبے ہلمند میں امریکی فضائی حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں طالبان طالبان ملٹری کمیشن کے سربراہ ملا عبدالمنان سمیت 29 طالبان ہلاک ہوئے تھے۔

افغان صوبے غزنی میں فورسز کی فضائی کارروائی، القاعدہ کے 31 دہشت گرد ہلاک

کابل کے سینئر سیکیورٹی آفیسر کا کہنا تھا ملا عبدالمنان تحریک طالبان افغانستان کا انتہائی اہم کمانڈر تھا جس کی ہلاکت سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی کامیابی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں