The news is by your side.

Advertisement

سوئیڈن اور فن لینڈ کے درمیان واقع آلینڈ کی کہانی

فن لینڈ براعظم یورپ کے شمال میں واقع ہے۔ اس ملک نے بھی سوئیڈن کے بعد روس کا قبضہ اور تسلّط دیکھا اور بعد میں وقت کا دھارا تبدیل ہوا تو آزادی حاصل کی۔

اسی فن لینڈ کے کئی چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل علاقے کو دنیا آلینڈ (Aland) کے نام سے جانتی ہے۔ یہ ایک جزیرہ نما اور خود مختار علاقہ ہے۔ آج ہم آپ کی دل چسپی کے لیے آلینڈ کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں اور ضروری معلومات آپ تک پہنچا رہے ہیں۔

آلینڈ بحرِ بالٹک میں فن لینڈ اور سویڈن کے درمیان موجود ایک خلیج کے جنوبی سرے پر واقع ہے۔ اس کی آبادی محض چند ہزار نفوس پر مشتمل ہے جب کہ آلینڈ 6500 جزائر پر مشتمل ہے۔ ان جزائر میں سے صرف ساٹھ ہی انسانوں نے آباد کررکھے ہیں اور باقی چند جزائر ہی تفریحی مقام کے طور پر انسانوں کی آمد و رفت دیکھتے ہیں اور ان میں سے اکثر مکمل طور پر ویران پڑے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ فن لینڈ کا حصّہ ہونے کے باوجود آلینڈ میں ٹیکس کا اپنا نظام ہے، ڈاک ٹکٹ الگ ہیں، اس کا جھنڈا بھی الگ ہے اور سرکاری زبان سویڈش ہے۔

یہ انتہائی خوب صورت اور وسائل سے مالا مال علاقہ ہے۔ حکومت نے مختلف جزائر کو آپس میں ملانے کے لیے پُلوں، سڑکوں اور کشتیوں کا انتظام کر رکھا ہے۔ آلینڈ سیروسیّاحت کے لیے بھی مشہور ہے اور یہاں آنے والے کشتی رانی، ماہی گیری، سمندری مہم جوئی، گولف، سائیکلنگ وغیرہ سے ضرور لطف اندوز ہوتے ہیں۔

چوں کہ فن لینڈ پر ایک عرصہ سویڈن نے اپنا تسلّط برقرار رکھا، لہٰذا یہاں سے جانے اور فن لینڈ کی آزادی کے بعد بھی جزائر آلینڈ کی ملکیت کا تنازع ان ممالک کے بیچ رہا ہے۔ دراصل یہ جزائر دونوں ملکوں کے درمیان واقع ہیں اور ان ممالک کے لیے کئی لحاظ سے اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہاں کے باشندوں نے دونوں ملکوں کو چھوڑ کر آزاد اور خود مختا رہنا پسند کیا۔ یہ تنازع 1930ء میں حل کر لیا گیا جس کی رُو سے ان جزائر کے باشندوں کو مکمل آزادی تو نہیں ملی مگر یہ اپنے بنیادی معاملات طے کرنے میں آزاد اور فیصلوں میں خود مختار قرار پائے جس کی مثال مختلف نظام ہائے ریاست ہیں جن میں‌ کوئی ملک مداخلت نہیں‌ کرتا۔

یہاں کے لوگ خوش مزاج، نرم گفتار اور صفائی ستھرائی کے اصولوں کے ساتھ قوانین کی پاس داری کے لیے مشہور ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں