The news is by your side.

Advertisement

خطرے کی گھنٹی ، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 23 ماہ کے کم ترین سطح پر آگئے

کراچی :اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 23ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے اور ذخائر ایک سو نوے ملین ڈالر کم ہوکر10 ارب 30 کروڑ 8لاکھ ڈالر رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تئیس ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔

مرکزی بینک نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخاٸر میں ایک ہفتے کے دوران 19کروڑ ڈالر کمی ہوگٸی، جس کے بعد زرمبادلہ کے مجموعی ذخاٸر کی مالیت 16ارب 37 کروڑ ڈالر رہ گٸی ہے۔

مرکزی بینک کے ذخاٸر کی مالیت 10 ارب 30 کروڑ ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 6 ارب 6کروڑ ڈالر کے ذخاٸر ہیں۔

شہباز شریف کی حکومت کے پہلے ہی ماہ میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب دس لاکھ ڈالرکی کمی ہوئی ، اب حکومت کے پاس صرف ڈیڑھ ماہ کے امپورٹ کے ذخائر بچے جبکہ اگلے کچھ ماہ میں ڈالر کہیں سے آتے نظر نہیں آ رہے۔

آئی ایم ایف نے ایک ارب ڈالر دینے کیلئے موجودہ حکومت پر کڑی شرائط کا نفاذ کیا جبکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر2019کے بعد چھ مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں سولہ اعشاریہ چاربلین ڈالر پر اپنی کم ترین سطح پر ہیں

اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ذخائر ایک سو نوے ملین ڈالر کم ہوکر دس ارب تیس کروڑ اٹھ لاکھ ڈالر رہ گئے، ذخائر میں کمی کی وجہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں