The news is by your side.

Advertisement

وزیراعلیٰ پنجاب کیلیے جوڑ توڑ آخری مرحلے میں داخل

لاہور: پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ کے لیے جوڑ توڑ آخری مرحلے میں داخل ہوگئی۔ حکومت اور اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے حکمت عملی تبدیل کر دی۔ ایک دوسرے کے منحرف ارکان کو ووٹ سے روکنے کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ منحرف ارکان کے ووٹ نہ پڑنے پر رن آف الیکشن کے امکان بڑھ گئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق371 کے ایوان میں وزارت اعلیٰ کے منصب کے لیے 186 ووٹ درکار ہیں۔ دونوں جانب ووٹ یکساں ہونے پر رن آف الیکشن کا مرحلہ شروع ہوگا۔ رن آف الیکشن میں ایوان میں موجود ارکان کی تعداد پر فیصلہ کیا جائے گا۔

پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی 183 ارکان کے ساتھ بڑی جماعت ہے۔ ترین گروپ نے 13 ووٹ اپوزیشن امیدوار حمزہ شہباز کو دینے کا اعلان کر رکھا ہے جب کہ علیم خان گروپ نے بھی اپنے 3 ووٹوں کے ساتھ اپوزیشن کی سپورٹ کا اعلان کیا ہے۔

16 ووٹ منہا کرنے کے بعد پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 167 رہ جائے گی۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیھ (ق) 10 ووٹوں کے ساتھ حکومتی امیدوار پرویز الٰہی کو ووٹ دے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے 4 منحرف اور 2 آزاد امیدواروں نے حکومتی امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

راہ حق پارٹی کا ایک رکن بھی حکومتی امیدوار کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔ پرویز الٰہی اب تک 183 ارکان کی حمایت حاصل کر چکے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) 162 ارکان کی حمایت رکھتی ہے۔ ن لیگ کو ترین اور علیم خان گروپ کے 16 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

پیپلز پارٹی کے 7 ارکان نے بھی اپوزیشن امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ 2  آزاد ارکان بھی ن لیگ امیدوار کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار نے 187 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں