راولپنڈی (25 فروری 2026): اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی ہمیشرہ علیمہ خانم نے بھائی کے کیسز عدالتوں میں نہ لگوانے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت پر برس پڑیں۔
وکیل فیصل ملک کے ہمراہ انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خانم نے کہا کہ عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی کچھ نہیں کر رہی، عدالتوں میں مقدمات لگے ہیں لیکن حامد خان، بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر کہاں ہیں؟
علیمہ خانم نے کہا کہ جو عمران خان کے بیانیے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ایک طرف ہو جائے، میرے بھائی کی صحت کا سوال ہے پارٹی ایسے مطمئن ہے جیسے علاج ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی نے پیغام دیا ہے کہ انہیں نظر نہیں آ رہا، علیمہ خانم
انہوں نے کہا کہ پارٹی کو واضح کر دیا تھا کہ آنکھ خرابی کی وجہ جاننے کیلیے مکمل تحقیقات ہونی چاہیے، فیملی محسن نقوی کی باتوں کی وضاحت چاہتی ہے، پارٹی ان کی اجازت کے بغیر بانی کی صحت پر کوئی بیان یا فیصلہ نہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بار بار پیغام بھیجا کہ وکلا کو کہیں کیسز لگوائیں، کیا پی ٹی آئی سینیٹرز اور ایم این ایز کی ذمہ داری نہیں کہ کیسز لگوانے کیلیے دباؤ ڈالیں، بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ہے میں وکیل ہوتی تو رات بھر تیاری کر کے کیس فائل کرتی۔
علیمہ خانم نے بتایا کہ بیرسٹر گوہر کو فون آیا تھا کہ دو ڈاکٹرز کے نام دے دیں جیل بھیجنے ہیں، میں نے کہا کہ ہم نے جیل میں ڈاکٹر نہیں بھیجنے کیونکہ ٹیسٹ اسپتال میں ضروری ہے، محسن نقوی نے کہا تھا کہ گوہر صاحب نے ساتھ آنا تھا، اس کا مطلب ان سب کو پتا تھا۔
’پارٹی نے کہا تھا کہ محسن نقوی گارنٹی دے رہا ہے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جا رہا ہے، پارٹی نے کہا کہ ایک فیملی ممبر اور ذاتی ڈاکٹر ساتھ ہوگا اس کی گارنٹی دی گئی تھی، جو بات چیت کر رہے تھے سب نے ہم سے چھپایا، ہم سے کیوں چھپایا گیا؟‘
سابق وزیر اعظم کی ہمشیرہ نے مزید کہا کہ منگل کو عمران خان کا پیغام ملا کہ مجھے علاج پر تسلی نہیں اس لیے آواز اٹھائیں، بشریٰ بی بی نے جو اپنی فیملی کو بتایا انہوں نے ہمیں بتایا، بانی پی ٹی آئی کی رہائی ان کے کیسز سے منسلک ہے جو ہائیکورٹ میں لگنے ہیں، جتنے وکلا کو ٹکٹس ملے ہیں سارا دن جیل کے باہر کھڑے ہوتے تھے اب نظر نہیں آتے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


