اردو افسانہ نگاری میں علی عباس حسینی کو ہئیت و تیکنیک کے تجربات کے علاوہ اظہار کی انفرادیت اور اسلوب کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ علی عباس حسینی نے نثری ادب کو مختلف اصناف میں خوب صورت تحریریں اور یادگار کتب دیں۔ افسانہ و ناول، ڈرامہ، تاریخ اور تذکرہ نویسی کے ساتھ ان کے تنقیدی مضامین اور تراجم بھی اردو ادب میں اہمیت رکھتے ہیں۔
علی عباس حسینی نے بلاشبہ اپنے منفرد اور دل نشیں طرزِ تحریر کے باعث اپنے ہم عصروں کے ساتھ ادب کے قارئین سے بھی خوب ستائش اور توجہ سمیٹی۔ وہ 3 فروری 1897ء کو بہار کے علاقہ غازی پور میں پیدا ہوئے۔ بعد میں لکھنؤ چلے گئے تھے اور وہیں 27 ستمبر 1969ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ علی عباس حسینی نے 1919ء میں کیننگ کالج لکھنؤ سے بی۔ اے کیا تھا۔بعد میں پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے 1924ء میں ایم۔ اے کی ڈگری لی اور تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ 1954ء میں انھوں نے لکھنؤ کے حسین آباد کالج سے بحیثیت پرنسپل ریٹائرمنٹ لی۔
ہر بچّے کی طرح علی عباس حسینی بھی بچپن سے ہی قصے کہانیوں میں بہت دل چسپی لیتے تھے اور جب پڑھنا شروع کیا تو مختلف کتابوں اور رسائل میں شایع ہونے والی کہانیوں کا مطالعہ شروع کردیا۔ بعد میں الف لیلہ کے قصائص، فردوسی کا شاہ نامہ، طلسم ہوش ربا اور اردو کے افسانوی ادب کا مطالعہ کیا اور پھر لکھنے کی طرف مائل ہوئے۔ 1917ء میں ان کا پہلا افسانہ "غنچۂ ناشگفتہ” کے عنوان سے ضبظِ تحریر میں آیا۔ 1920ء میں "سر سید احمد پاشا” کے قلمی نام سے پہلا رومانوی ناول "قاف کی پری” لکھا تھا۔ شاید کہ بہار آئی” علی عباس حسینی کا دوسرا اور آخری ناول تھا۔ ان کے افسانوں کے متعدد مجموعے شایع ہوئے جن میں رفیقِ تنہائی، باسی پھول، کانٹوں میں پھول، میلہ گھومنی وغیرہ شامل ہیں۔ "ایک ایکٹ کے ڈرامے” ان کے ڈراموں پر مشتمل کتاب ہے۔
علی عباس حسینی نے فکشن کے نقاد کے طور پر بھی شناخت بنائی۔ ان کی کتاب "ناول کی تاریخ و تنقید” ایک مفصل اور لائقِ مطالعہ تنقید ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


