The news is by your side.

جموں وکشمیر بھارتی حکمرانوں کی جاگیرنہیں، حریت رہنما

جموں سری نگر ہائی وے کو بند کرنے پر سید علی گیلانی کا سخت ردعمل

سری نگر:مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے قابض انتظامیہ کی طر ف سے جموں سرینگر ہائی وے کو ہفتے میں دو دن عوام کے لیے بند کرنے اور صرف فوجی نقل و حرکت کیلئے مخصوص کرنے کے آمرانہ حکم نامے کی شدید مذمت کی ہے ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی حکمرانوں کوخبردار کیاکہ پوری وادی کشمیر کو قبرستان میں تبدیل کرنے کے بعد اب عام لوگوں کی گردنوں پر پھندا ڈال کر انہیں تڑپنے پر مجبور کرنے کے بھیانک نتائج نکلیں گے ۔

انہوں نے کہاکہ جموںوکشمیر بھارتی حکمرانوں کی جاگیر نہیں اور کشمیری عوام ان کے غلام نہیں ہیں کہ جب جو چاہیں وہ بغیر پوچھے لوگوں کو عذاب وعتاب میں مبتلا کر دیں۔انہوں نے کہا کہ آمدورفت کے ذرائع انسان کے روزمرہ کے معمولات کے لیے ہی نہیں، بلکہ ہنگامی حالات، خوشی اور غمی کے موقعوں پر بھی استعمال کئے جاتے ہیں اور لوگوں کی بنیادی ضروریات پر قدغن لگانا فسطائیت، سفاکیت اور چنگیزیت کی بدترین مثال ہے۔

سیدعلی گیلانی نے کہا کہ ہٹلر اور ہلاکو خان نے بھی ایسے بے رحمانہ اور عام لوگوں کو تختہ مشق بنانے والے اقدامات نہیں کئے ہوں گے جو بی جے پی کے انتہا پسند اور متعصب حکمران جمہوریت کا مکھوٹا پہن کر بڑی ڈھٹائی سے انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسے آمرانہ فیصلے کشمیری عوام کو ہر گز قبول نہیں ۔ حریت چیئرمین نے کہاکہ کشمیری عوام کی اس سے بڑی بدقسمتی اور بدنصیبی اورکیا ہوگی کہ انہیں جو علاقے کے پشتینی مکین ہیں، ان ہی کو خوشی یا غمی کے لیے اپنے ہی وطن کی زمین استعمال کرنے کے لیے قابض افسروں اور بیرو کریٹس سے اجازت لینی پڑے گی۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کو اپنے گھر میں ہی قید کر کے بھارت سے آئے ہوئے فوجیوں کو بغیر کسی خلل کے پوری آزادی سے کشمیر کے اطراف واکناف میں آمد ورفت کی کھلی چھوٹ ہوگی۔

سیدعلی گیلانی نے انسانی حقوق کی علمبردارتنظیموں ، اقوامِ عالم کے ذی حس اداروں اور خود بھارت کے حساس شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے ظالمانہ اور جابرانہ اقدامات کے خلاف کشمیریوں کا ساتھ دے کر ان انسانیت کُش اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنے میں ہماری مدد کریں۔

انہوں نے اس مسئلہ کو انتہائی سنگین اور غیر معمولی اہمیت کا حامل واقعہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کے خلاف تمام مکتبہ ہائے فکر کے افراد، تنظیموں ، گروپوں، تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور وکلاءسے مشاورت کے بعد مشترکہ طور پرآئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں