The news is by your side.

Advertisement

والدین کی طلاق نے علی گل پیرپرکیا نفسیاتی اثرات مرتب کیے

 

کراچی:کامیڈین و گلوکار علی گل پیر نے والدین کی طلاق سے متاثرہ بچوں کے لیے ”سوری“ کے نام سے  ایک نغمہ ریلیز کردیا ہے جس میں وہ ہلکی موسیقی کے ساتھ خود پر گزرے دکھوں کو گاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

علی گل پیر کا یہ نیا نغمہ  ’سوری‘ ان معصوم بچوں کے لیے بنایا گیا ہے جن کا بچپن والدین کے درمیان طلاق اور اس کے بعد پیش آنے والے مسائل کی وجہ سے مشکلات سے دو چار رہتا ہے۔

اس  میں یہ پیغام دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ وہ بچے جو خود کو والدین کی طلاق کا ذمہ دار سمجھتے ہیں دراصل وہ قصوروار نہیں ہوتے۔علی گل پیر نے اپنا نغمہ ’سوری‘ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ چار سے پانچ سال قبل مجھے انزائٹی کا دورہ پڑا کرتا تھا اور میں شدید نفسیاتی دباو کا شکار بھی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ  مجھے اس وقت سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے جس کے بعد میں نے سائیکو تھراپی اور ایکسرسائز کرنا شروع کی لیکن جب میں نے اپنی اس بیماری سے متعلق دوستوں سے بات کی تو احساس  ہوا کہ اس بیماری کے پیچھے میرے والدین کی طلاق ہے۔

علی گل پیر نے یہ بھی کہا کہ جن والدین کی طلاق ہو جاتی ہے ان کے بچے عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں اور جب ہم اس حوالے سے وہ کسی سے بات نہیں کرتے تو بعد میں اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہوتے ہیں۔

اسی طرح کے کچھ لوگ میرے ساتھ بھی اسکول اور کالج میں پڑھا کرتے تھے جن کے والدین نہیں تھے یا کسی وجہ سے الگ ہو گئے تھے تو وہ بھی کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار رہتے تھے اور اسی وجہ سے وہ کھل کر بات نہیں کرپاتے تھے۔

گلوکار نے یہ بھی کہا کہ اس تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ سوچا کہ والدین کی طلاق کی وجہ سے خود کو احساس کمتری کا شکار محسوس کرنے والوں کو نفسیاتی دائرے سے باہر لانے کے لیے گانا بنانا چاہیے، تاکہ وہ یہ گیت سن کر محسوس کرسکیں کہ یہ سب زندگی کا حصہ ہے اس میں پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں