The news is by your side.

Advertisement

علی رضا عابدی کو قتل کرنے کیلیے8 لاکھ روپے ملے، ملزمان کا اعتراف

پولیس نے چار ملزمان کا حتمی چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا، ملزمان کا اعتراف جرم

کراچی : علی رضا عابدی قتل کیس میں پوليس نے حتمی چالان پيش کرديا، مذکورہ چالان انسداد دہشت گردی عدالتوں کے منتظم کی کورٹ ميں پيش کيا گيا، پولیس کے چالان ميں گرفتار ملزمان کے اعترافی بيانات شامل ہیں۔

پوليس نے گرفتار ملزمان کے اعترافی بيانات کو بڑی کاميابی قرار دے ديا، پولیس چالان کے مطابق چار ملزمان گرفتار اور چار مفرور ہیں اس کے علاوہ 12گواہان بھی شامل ہیں۔

چالان ميں پوليس نے دعویٰ کیا ہے کہ چاروں ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرليا ہے، مفرور ملزمان ميں بلال، حسنين، مصطفی عرف کالی چرن اور فيضان شامل ہیں جبکہ محمد فاروق، محمد غزالی، ابوبکر اور عبدالحسيب کو گرفتار کیا گیا ہے۔

چالان کے متن کے مطابق محمد فاروق کی گرفتاری میں ملزمان کا سراغ ملا، پولیس کے مطابق علی رضا عابدی کو لگنے والی گوليوں کے خول کا فارنزک تجزيہ کرايا گيا،خول2018میں لياقت آباد ميں ایک قتل کے واقعے سے مماثلث رکھتے ہیں۔

رہنما ایم کیو ایم کے قتل کے لئے ملزمان کو 8 لاکھ روپے دیئے گئے، قتل کیلئے حسينی بلڈنگ کے پاس ایک نامعلوم شخص نے ملزمان کو رقم ادا کی۔

مزید پڑھیں: علی رضا عابدی قتل کیس میں اہم پیشرفت، چار اجرتی قاتل گرفتار، سی ٹی ڈی کا دعویٰ

چالان میں مزید بتایا گیا ہے کہ علی رضاعابدی کے قتل ميں استعمال موٹر سائیکل واردات کے بعد جلا دی گئی تھی، واضح رہے کہ علی رضا عابدی کو 25 دسمبر کو ان کے گھر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کیا گيا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں