The news is by your side.

Advertisement

عابدی قتل کیس میں نیا موڑ، گینگ وار کے ملوث ہونے کا امکان

کراچی: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کے قتل میں گینگ وار ملزمان کے ملوث ہونے کے پہلو پر بھی تحیقیقات شروع کردیں۔

سابق رکن اسمبلی کی تحقیقات پولیس سے کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو سونپ دی گئی، اس ضمن میں سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ لیاقت آباد میں قتل ہونے والے نوجوان احتشام اور علی رضا عابدی کے قتل میں ایک ہی ہتھیار استعمال ہوا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ احتشام کے قتل میں لیاری گینگ وار کے ملزمان ملوث تھے جو قتل کی واردات کے بعد ایران فرار ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: علی رضا عابدی قتل کیس: سیکورٹی کمپنی کا لائسنس معطل

تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ ان تمام شواہد کی بنیاد پر اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سابق رکن اسمبلی کے قتل میں گینگ وار ملوث ہوسکتی ہے اس ضمن میں لیاری گینگ وار کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ گینگ وار کے گرفتار ملزمان سے بھی علی رضا عابدی کے قتل کی تفتیش کی گئی اور آئندہ چند روز میں لیاری گینگ وار کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 25 دسمبر کو علی رضا عابدی کو ڈیفنس میں اُن کے گھر کے باہر نامعلوم افراد گولیاں مار کر چلے گئے تھے جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: علی رضاعابدی قتل کیس: پولیس کی ایم کیو ایم رہنما عامر خان سے تفتیش

پولیس کی تفتیشی ٹیم نے قتل میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا ، علاوہ ازیں ایم کیو ایم کی سینئر قیادت کو بھی تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیئر عامر خان نے بھی پولیس کو بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایس پی پیرمحمد شاہ نے ایک ماہ قبل خدشہ ظاہر کیا تھا کہ علی رضا عابدی کے قتل میں ایم کیو ایم لندن اور ساؤتھ افریقا کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں