The news is by your side.

Advertisement

’علی سدپارہ واپسی پر حادثے کا شکار ہوئے‘

اسکردو: گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر نے کہا ہے کہ علی سدپارہ اور ساتھی کے ٹو سے واپسی کے وقت حادثے کا شکار ہوئے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیر سیاحت گلگت بلتستان راجہ ناصر کا کہنا تھا کہ ’علی سدپارہ عظیم کوۂ پیما کے ساتھ بہت اچھے انسان بھی تھے، وہ اپنی آمدنی کا نصف حصّہ غریبوں میں تقسیم کردیتے تھے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی حکومت علی سدپارہ اور خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی اور پروموٹ کرے گی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ کے ٹو مہم جوئی کے دوران باٹل نیک کا مقام پار کرنے کے بعد مشکلات باقی نہیں رہتیں، علی سدپارہ کے بیٹے کا کہنا ہے والد اور ساتھیوں کو واپسی پر حادثہ پیش آیا‘۔

مزید پڑھیں: علی سدپارہ : ’کے ٹو کا ہیرو، کے ٹو میں مدفن‘

وزیر سیاحت کا کہنا تھا کہ ’سیٹلائٹ کےذریعےعلی سدپارہ کی تلاش کاعمل جاری ہے،کوہ پیماؤں کی بہتر انشورنس پالیسی کیلئے قانون سازی کررہے ہیں، علی سدپارہ کےنام سےٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کریں گے‘۔

راجہ ناصر کا کہنا تھا کہ ’سیاحت کو صرف موسم گرما تک محدودنہیں رکھنا چاہتے، کراچی کے نوجوان ہماری رہنمائی کریں، حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے نوجوانوں کی تجاویز سے فائدہ اٹھائے گی‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’سیاحت کو فروغ دینے کے لیے آئس کے مختلف کھیل شروع کیے جائیں گے تاکہ بیرون ملک سے بھی سیاح شمالی علاقہ جات کا رخ کریں‘۔

خیال رہے کہ رواں سال فروری میں علی سدپارہ اپنے بیٹے ساجد سدپارہ سمیت 2 غیر ملکی کوۂ پیماؤں کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے 2 سر کرنے کے لیے نکلے تھے، وہ اس چوٹی کو موسم سرما میں سر کرنے کا ریکارڈ بنانا چاہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: محمد علی سدپارہ کے نام سے منسوب انسٹیٹیوٹ کی منظوری دے دی گئی

محمد علی سدپارہ بھی پاکستان کے لیے اس اعزاز کو حاصل کرنا چاہتے تھے لہٰذا وہ خراب موسم کے باوجود اپنے مشن پر کاربند رہے اور مہم جوئی کو جاری رکھا، بعد ازاں ان کا اور دیگر کوہ پیماؤں کا رابطہ منقطع ہوگیا۔

پاک فوج کی ریسکیو ٹیم کئی روز تک انہیں تلاش کرتی رہی لیکن ناکام رہی جس کے بعد ان کے بیٹے ساجد سدپارہ نے والد کی موت کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں