site
stats
اے آر وائی خصوصی

مشہور شاعر علی سردار جعفری کی آج سولہویں برسی ہے

معروف شاعر اور ادیب علی سردار جعفری کی آج سولہویں برسی ہے۔

علی سردار جعفری اتر پردیش کے گونڈہ ضلع میں 1913 میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے لکھنؤ میں ایک مذہبی ماحول میں پرورش پائی تھی۔ انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا تھا۔

علی سردار جعفری 8 سال کی عمر میں انیس کے مرثیوں میں سے 1000 اشعار روانی سے پڑھتے تھے۔ وہ صرف 15 برس کے تھے جب انہوں نے اپنا ادبی سفر افسانہ نگاری سے شروع کیا۔ 1938 میں ان کا پہلا افسانوں کا مجموعہ “منزل” شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے شاعری شروع کردی۔

علی سردار جعفری نے انقلابی اور حب الوطنی پر مبنی شاعری کی جس کے سبب 1940 میں گرفتار ہوگئے۔ وہ بھارت کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن کے طور پر بھی کام کرتے رہے اور اس کی ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں اپنی شاعری کے ذریعے سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

شاعری کے علاوہ جعفری ڈرامے اور افسانہ نگاری میں بھی خاصا عبور رکھتے تھے۔ وہ ممبئی سے چھپنے والے سہ ماہی ’نیا ادب‘ کے مدیر تھے۔انہوں نے شیکسپیئر کی کچھ تحریروں کا اردو میں بھی ترجمہ کیا۔ ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے1967 میں انہی پدما شری کا قومی اعزاز دیا گیا تھا۔

سن 1999 میں جب اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان کے تاریخی دورہ امن پر آئے، تب انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو ’سرحد‘ کے نغموں کا البم پیش کیا تھا جنہیں علی سردار جعفری نے لکھا تھا اور آواز سیما انیل سہگل کی تھی۔

علی سردار جعفری یکم اگست 2000 میں ممبئ شہر میں انتقال کرگئے۔

ان کی مشہور نظم ’تخلیق کا کرب‘ پڑھیئے۔

ابھی ابھی میری بے خوابیوں نے دیکھی ہے
فضائے شب میں ستاروں کی آخری پرواز
خبر نہیں کہ اندھیرے کے دل کی دھڑکن ہے
کہ آرہی ہے اجالوں کے پاؤں کی آواز
بتاؤں کیا تجھے نغموں کے کرب کا عالم
لہو لہان ہوا جارہا ہے سینہ ساز

ان کا ایک اور قطعہ دیکھیئے۔

پیاس بھی ایک سمندر ہے سمندر کی طرح
جس میں ہر درد کی دھار
جس میں ہر غم کی ندی ملتی ہے
اور ہر موج
لپکتی ہے کسی چاند سے چہرے کی طرف

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top