The news is by your side.

Advertisement

ناقص گندم کی ترسیل، علی زیدی نے سندھ حکومت کی قلعی کھول دی

کراچی: وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سندھ میں ناقص گندم کے استعمال کا الزام حقیقت میں تبدیل ہوگیا، وفاقی وزیر کی جانب سے جاری ویڈیو نے صوبائی حکومت کا پول کھول دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سندھ میں ناقص گندم کی ترسیل سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کردی ہے، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک مزدور بوری میں موجود انتہائی ناقص گندم دکھا رہا ہے، جسے ایک ٹرک میں لوڈ کیا جارہا تھا۔

علی زیدی نے ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہے سندھ حکومت کی کارکردگی، عوام کو گندم کی جگہ گند کِھلا رہے ہیں، مگر سوال کرو تو کہتے ہیں ہم جوابدہِ نہیں۔

 دس فروری کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی سندھ میں ناقص گندم کے استعمال کی گونج سنائی دی گئی تھی، جہاں وفاقی کابینہ نے لاکھوں ٹن گندم کی ذخیرہ اندوزی کے ذریعہ گزشتہ سال کے گندم کے بحران میں کردار ادا کرنے پر حکومت سندھ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔کابینہ اجلاس کے بعد وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اجلاس میں حکومت سندھ کی جانب سے 32 ٹن گندم کے ‘6 سال پرانے اور استعمال کے لیے غیر موزوں’ اسٹاک جاری کرنے سے متعلق ایک رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے نوٹ کیا کہ حکومت سندھ نے وقت پر گندم جاری نہیں کی اور گندم اور چینی کے ذخیروں کے بارے میں بھی اعداد و شمار کا تبادلہ وفاقی حکومت کے ساتھ نہیں کیا جس کے نتیجے میں مصنوعی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ذخیرہ اندوزی اور گندم کے دستیاب ذخیرے کا ضیاع ہوا جو عوام استعمال کرسکتی تھی۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ‘کیا حکومت سندھ لوگوں کو جانوروں کی طرح دیکھتی ہے جنہیں پرانی گندم دی جاسکتی ہے؟۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سندھ میں ناقص گندم کے استعمال کی خبریں منظر عام آئی ہیں، اس سے قبل گذشتہ ماہ کی 21 تاریخ کو صوبہ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں محکمہ خوراک کے افسران کی غفلت سامنے آئی تھی، جس کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  نوشہرو فیروز: محکمہ خوراک کی سنگین غفلت، گندم کی ہزاروں بوریاں خراب

رپورٹ کے مطابق نوشہرو فیروز کے علاقے پڈعیدن کے سرکاری گوداموں میں رکھی سرکاری گندم خراب ہوئی تھی، خراب ہونے والے گندم کی بوریاں سال دوہزار چودہ میں دس کروڑ روپے کی خطیر رقم سے خریدی گئی تھی، سات سال تک یہ گندم سرکاری گوداموں میں سڑتی رہی،اس دوران کئی بار گندم کا بحران بھی آیا مگر محکمہ خوراک کے افسران نے سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا اور گندم ریلیز نہیں کی۔

گذشتہ سال جنوری میں قمبر کی تحصیل وارہ میں قائم سرکاری گودام سے بھی ہزاروں من گندم کی بوریاں خراب ہونے کے باعث باہر پھینک دی گئی تھی۔

بعد ازاں صوبہ سندھ کے ضلع سجاول میں محکمہ خوراک کے گودام کے احاطے میں موجود کروڑوں روپے مالیت کی گندم بارش اور گٹر کے پانی میں خراب ہونے کی خبریں منظر عام پر آئی تھی۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں