site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

سائنسدانوں نے خلا ئی مخلوق کی زندگی کا ثبوت ڈھونڈ لیا

 

سائنسدانوں نے خلائی مخلوق کی زندگی کا ثبوت ڈھونڈ لیا؟ خلا میں پراسرا طور پر رہنے والے بیکٹیریا کو بیرونی خلائی اسٹیشن کے باہر دیکھا گیا۔

خلائی مخلوق سے متعلق مختلف قسم کی داستانیں گردش کرتی رہتی ہیں اور ایسی مخلوق کو تلاش کرنے کیلئے سائنس دانوں کی جستجو آج بھی جاری ہے۔

مستقبل کی اس تلاش کے حوالے سے بہت ساری تخیلاتی فلمیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زندگی کی ایک اور شکل وہ بھی ہے جو زمین پر تو موجود نہیں ہے لیکن زمین سے باہر خلا میں اس کے وجود کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

سائنسدانوں نے خلائی مخلوق کی زندگی کا ثبوت ڈھونڈ لیا؟ خلا میں پراسرا طور پر رہنے والے بیکٹیریا کو بیرونی خلائی اسٹیشن کے باہر دیکھا گیا، یہ بیکٹیریا خلائی اسٹیشن کی سطح پر پایا گیا تھا۔

ایک روسی سائنسدان جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے تیسرے سفر کی منصوبہ بندی کررہے تھے، انہوں نے اسٹیشن کی سطح پرایک حیاتی بیکٹیریا پایا ۔

روسی خلائی سائنسدان کے مطابق بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی سطح پر زندگی کی حفاظت ممکن ہے، تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کہ خلائی اسٹیشن کے باہر پایا جانے والا یہ بیکٹیریاپہلے سے موجود ہے یا کسی اور طریقے سے لایا گیا۔

خلائی مخلوق کی موجود گی پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق جس مقام پر زمین کا کرہ ہوائی ختم ہوتا ہے، وہاں مختلف نوعیت کی جراثیمی مخلوق کی موجودگی خارج ازامکان نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خلا میں موجود اکثر سیارچے ایسے بھی ہیں کہ جن میں جراثیمی زندگی موجود ہو سکتی ہے۔

خلا میں گھومنے والا جب کوئی آوارہ سیارچہ زمین کے کرہ ہوائی میں داخل ہوجاتا ہے تو ہوا کی رگڑ سے اس میں آگ بھڑک اٹھتی ہے اور زمین پر پہنچنے سے پہلے وہ راکھ میں تبدیل ہوجاتا ہے، ایسے واقعات روزانہ ہزاروں کی تعداد میں رونما ہوتے ہیں۔

خلائی سائنس دان زمین کے کرہ ہوائی سے باہر جراثیمی مخلوق کی زندگی پر تحقیق کے ایک منصوبے پر کام کا آغاز کررہے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ زمینی حدود کے باہر کوئی ایسی مخلوق بھی موجود ہے جو ہوا، پانی، سورج کی روشنی کے بغیر بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اگر سائنس دان کرہ ارض کے باہر سے اس طرح کی کوئی مخلوق پکڑ کرلانے میں کامیاب ہوگئے تو وہ غالباً کرہ ارض پرآنے والی پہلی حقیقی خلائی مخلوق ہوگی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمونپسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top