The news is by your side.

Advertisement

‘جو والدین بچوں کو اسکول نہیں بھیجنا چاہتے وہ بالکل نہ بھیجیں’

کراچی : وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے اعلان کیا ہے کہ سندھ میں اٹھائیس ستمبر سے تمام تعلیمی ادارے کھل جائیں گے اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کرائیں گے ، جو والدین بچوں کو اسکولز نہیں بھیجنا چاہتے وہ بالکل نہ بھیجیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری،نجی اسکول انتظامیہ سے درخواست ہے غلطیوں کودرست کریں، 2وجوہات پرکچھ اسکول سیل کئے گئے ہیں، کچھ اسکولوں کو کورونا کیسز اور چھوٹے بچوں کو بلانے پر سیل کیا جبکہ چند دنوں کیلئے اسکول سیل کیے اور تنبیہ کے بعد دوبارہ کھولنے کی اجازت دی۔

وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں انتہائی سختی سےایس اوپیزپرعمل درآمدکرائیں گے، سرکاری یانجی اسکولزمیں ایس او پیز پرعمل نہیں ہوگا تو کارروائی ہوگی، ایس اوپیزپرعمل درآمدنہ کرنے پر قانونی کارروائی ہوگی۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں جو ایس اوپیز بنائے اس میں کافی تعاون کررہےہیں، ہم نے اس میں بہت سی چیزیں اسکولوں پرچھوڑیں، اسکول طےکریں کہ انہیں کیسےسہولتیں میسر ہیں، کمرےزیادہ ہیں توالگ الگ کمروں میں کلاسزہونی چاہیے اور کمرےکم ہیں توشفٹوں میں کلاسزہوں یاایک دن وقفے سے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ آدھے بچے ایک دن بلائیں باقی آدھےبچےدوسرے دن بلاسکتےہیں، بارباروالدین سےگزارش کرتاہوں آپ ہماری مدد فرمائیں، والدین کی مدد اور بغیرمانیٹرنگ اسکول میں ایس اوپیزپرعمل درآمدنہیں کراسکتے، والدین بچوں کو خود اسکول چھوڑنے یا لینے جا سکتے ہیں تو یہ بہتر ہے۔

وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ سندھ کے تمام اسکول 28ستمبر سےکھل جائیں گے، 28 تاریخ سے تمام کلاسز میں پڑھائی ہوگی، کئی اسکولوں میں انتظامات تسلی بخش نہیں ہیں، یہ کہنا کہ 7ماہ اسکول بند تھا تو ہم فیسز کیوں دیں ، یہ مناسب نہیں، ایس اوپیز خلاف ورزی پر قانون میں بھاری جرمانے اور سزائیں بھی ہیں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ کل جب کچھ اسکولوں میں گیاتوکسی ایک میں بھی بجلی نہیں تھی، بچوں سےکہہ رہےہیں کہ ماسک نہیں اتارنا اور دوسری طرف بجلی نہیں، سندھ 70فیصدکےقریب گیس پیداکرتاہے، سندھ کی ضرورتیں پوری ہوں توباقی صوبوں کو گیس جانی چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کراچی کے کئی علاقوں میں15گھنٹےکی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اور وزیراعظم نےخوشخبری سنادی اگلے2ماہ میں گیس کی مزید کمی ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں