The news is by your side.

Advertisement

ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے 24 ممالک کے نوجوان متحد

ماحولیاتی تبدیلیوں اوران کے سبب کرہ ارض کو پہنچنے والے نقصانات کے سدباب کے لیے 24 ممالک کے نوجوان متحد ہوکر ایک مشترکہ جدو جہد شروع کررہے ہیں جس کا عنوان ’’آل ان فار کلائمیٹ ایکشن‘‘ رکھا گیا ہے۔

کرہ ارض کی بقا کے لیے کوشاں یہ نوجوان ایک بین الاقوامی آن لائن دستخطی مہم شروع کرچکے ہیں ۔ یہ مہم یکم جولائی کو شروع کی گئی تھی اور اب تک اس پر ڈھائی لاکھ سے زائد افراد دستخط کرچکے ہیں ، مختلف ممالک کے یہ نوجوان کوشاں ہیں کہ ستمبر سے قبل وہ اس مہم پر دس لاکھ دستخط دنیا بھر سے حاصل کرلیں ۔

چینج ڈاٹ اوآرجی کے ذریعے دستخط کی جانے والی یہ مہم ستمبر میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر یو این کلائمیٹ چینج ایکشن سمٹ میں دنیا بھر کے رہنماؤں کے سامنے رکھی جائےگی۔

اس موقع پر نوجوان اپنے تحفظات کو عالمی برادری کے سامنے پیش کریں گے اور ان پر زور دیں گے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے اب حتمی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اوریہعالمی ادارہ اس کے لیے کوششیں کرے۔ 24 ممالک میں پھیلے ہوئے یہ نوجوان جن میں پاکستان سے بھی کئی نوجوان شریک ہیں، کوشاں ہیں کہ ان کی اس مہم کا دائرہ کار کم از کم 50 ممالک تک پھیل جائے ۔

پاکستان سے مہم میں شریک نوجوان

یاد رہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جس کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں حصہ انتہائی کم ہے لیکن وہ ان تبدیلیوں کا سب سے زیادہ شکار بن رہا ہے، ماحولیاتی آلودگی کے فروغ میں امریکا اور چین سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔

نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے محض تقاریر سن سن کر عاجز آچکے ہیں اوراب وقت آگیا ہے کہ عالمی لیڈر اس مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے دنیا بھر میں کلائمیٹ ایمرجنسی نافذ کریں اور گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

اس مہم کے اسپین سے تعلق رکھنے والے کوآرڈینیٹر فرنینڈو کوٹریراس کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی بحران اب ایک حقیقی خدشے کے طور پرسامنے آچکا ہے اور نوجوان اب انتظار نہیں کرسکتے کہ ہمارے بڑے اس معاملے کو کب حل کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں، لہذا ہم خود بین الاقوامی سطح پر متحد ہورہے ہیں اور عالمی رہنماؤں کے لیے ’’آٓخری موقع ‘‘کے نام سے ایک تحریک شروع کررہے ہیں جو کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات دنیا بھر کے سامنے رکھے گی۔

جنوبی اوروسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے کوآرڈینیٹر درلبھ اشوک کے مطابق اس خطے کے دس میں سے پانچ ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے بدترین نقصانات کا سامنا کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر سنہ 2015 میں سائیکلون نرگس کے سبب میانمار میں 24 لاکھ افراد بدترین ہیٹ ویو سے متاثر ہوئے جبکہ پاکستان میں دو ہزار سے زائد افراد جان سے گئے تھے۔ اگر ہم نے اس کے سدباب کے لیے ابھی اقدامات نہیں کیے تو موسمیاتی تبدیلیاں مزید شدت اختیار کریں گی۔

اس وقت 20 سے زائد ممالک کے ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے سرگرم کارکنان اس مہم میں شریک ہوچکے ہیں اور یہ لوگ اقوام متحدہ کے سامنے دس مطالبات رکھیں گے۔ آل ان فار کلائمیٹ ایکشن مہم میں شمولیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں بغیر کسی رنگ، نسل زبان ، جنس، عمر ثقافت اور مذہب کی تفریق کے سب کو یکساں نشانہ بنا رہی ہیں۔

یہ مہم کسی بھی ملک کی حکومت یا سیاسی پارٹی کے زیر انتظام نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر نوجوانو ں کا اٹھایا ہوا قدم ہے جسے انتہائی سرعت کے ساتھ دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں