The news is by your side.

Advertisement

جواں عزم ماں ، باپ اور بیٹے نے ایک ساتھ میٹرک کرلیا

میٹرک نتائج میں پوری فیملی کامیاب قرار پائی

نئی دہلی: بھارتی ریاست اڑیسہ کی  ایک فیملی ماں، باپ اور بیٹے نے ایک ساتھ میٹرک امتحانات میں کامیابی حاصل کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع بالاسور کے رہائشی کسان نے اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ گزشتہ برس گاؤں کی پنجائیت سے اجازت لے کر میٹرک امتحانات میں شرکت کی۔

پیر کے روز آنے والے میٹرک نتائج میں پوری فیملی کامیاب قرار پائی جبکہ بیٹے بکاش نے امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 33 سالہ خاتون تپائی نے پڑھائی چھوڑنے کے 20 برس بعد اڑیسہ کے بورڈ میں پرائیوٹ میٹرک کرنے کے لیے اپنی، شوہر اور کی رجسٹریشن کروائی جبکہ 16 سالہ صاحبزادے نے اسکول میں باقاعدگی سے تعلیم حاصل کی۔

خاتون کا کہنا تھا کہ شادی سے قبل میں نے 8ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی مگر بعد میں کچھ ایسے معاشی مسائل پیدا ہوئے جن کے باعث تعلیم کو جاری رکھنا میرے لیے ناگزیر ہوگیا تھا۔

تپائی کا کہنا تھا کہ 2001 میں شادی کے بعد میرے شوہر نے تعلیم جاری رکھنے اور میٹرک کرنے پر زور دیا جس کے بعد میں نے سوچا کیوں نا بورڈ میں اپنی رجسٹریشن کرا کے اس سلسلے کو دوبارہ شروع کروں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب:‌ ماں بیٹی نے اکٹھے گریجویشن کر کے نئی مثال قائم کر دی

اُن کا کہنا تھا کہ بیٹے نے امتحانات کے دوران نہ صرف ہماری مدد کی بلکہ خود بھی دل لگا کر تیاری کرتا رہا یہی وجہ ہے کہ اُس کا نتیجہ ہم سے بہت بہتر آیا، بیٹے نے bگریڈ سے میٹرک پاس کیا جو ہمارے لیے بہت فخر کی بات ہے۔

بکاش کا کہنا تھا کہ ’والد اور والدہ کی رجسٹریشن کے بعد میں نے اپنی تعلیم کے ساتھ اُن دونوں پر بھی توجہ دی تاکہ ہم تینوں ہی کامیابی حاصل کرسکیں اور یہ ممکن بھی ہوگیا‘۔

تپائی کے شوہر جو کسان ہیں انہوں نے میٹرک کے رزلٹ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ‘اب میری بیوی اور بیٹا مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے کالج بھی جائیں گے‘۔

پردھان کا کہنا تھا کہ میں خود بھی گریجویشن کرنے کا خواہش مند ہوں مگر ذریعہ معاش کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تاہم بیٹا اور اہلیہ ضرور اپنی تعلیم مکمل کریں گے تاکہ ہم گاؤں کے ناخواندہ لوگوں میں تعلیم کی اہمیت کو بڑھا سکیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں