The news is by your side.

Advertisement

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تنظیم کا اسکولز کی بندش کا فیصلہ قبول کرنے سے انکار

اسلام آباد: آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے اسکولز کی بندش کا فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے کرونا کیسز ایک بار پھر بڑھنے پر تعلیمی اداروں میں تدریس معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

ایسوسی ایشن کے صدر ملک ابرار نے کہا کہ شاپنگ مالز، ایئر پورٹس سمیت تمام ادارے کھلے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بھی ہو رہے ہیں، اس لیے صرف اسکولز کی بندش قبول نہیں، حکومت فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز نے مطالبہ کیا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے تدریسی عمل بحال رکھا جائے، اگر زبردستی اسکولز بند کرائے گئے تو انتہائی حد تک احتجاج کریں گے۔

واضح رہے کہ آج وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے نیوز کانفرنس میں پنجاب کے 7 شہروں کے تعلیمی اداروں میں موسم بہار کی چھٹیاں دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

کورونا کیسز میں اضافہ، پاکستان میں تعلیمی ادارے بند کرنے سے متعلق بڑا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ پشاور، مظفر آباد کے تعلیمی ادارے بھی 15 سے 28 مارچ تک بند ہوں گے، پابندی کا اطلاق اسکولز، کالجز، جامعات سمیت تمام تعلیمی اداروں پر ہوگا، تاہم باقی ڈسٹرکٹس اور شہروں میں 50 فی صد اسکولز میں تدریسی عمل چلتا رہے گا، جہاں جہاں حالات خراب ہوئے وہاں اسکول بند کیا جا سکتا ہے۔

سندھ، بلوچستان میں 50 فی صد بچوں کو روزانہ تعلیمی اداروں میں آنے کی اجازت ہوگی، تاہم لاہور، راولپنڈی، ملتان میں اسکولز آئندہ پیر سے 28 مارچ تک بند رہیں گے، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ کے اسکولز 2 ہفتے کے لیے بند رہیں گے۔

ادھر لاہور میں اسکولوں کے ساتھ یونی ورسٹیز اور کالجز بھی 2 ہفتے کے لیے بند کر دیےگئے ہیں، محکمہ اسکول ایجوکیشن کے بعد محکمہ ہائر ایجوکیشن نے بھی نوٹی فکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق پنجاب کے 7 شہروں کی یونی ورسٹیز اور کالجز 28 مارچ تک بند رہیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں