لاہور : آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کاشف مرزا نے سوال اٹھایا کہ سندھ اور خیبر پختونخوامیں گرمیوں کی 2 ماہ کی چھٹیاں ہیں تو پنجاب میں 90 دن کی طویل چھٹیاں کیوں؟
تفصیلات کے مطابق آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کاشف مرزا نے دیگر 10 نجی تعلیمی اداروں کے عہدیداروں کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے اسکولوں میں 90 دن کی طویل تعطیلات کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور اس حکومتی فیصلے کے خلاف عدالت میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ شہریوں اور بچوں کو مفت و معیاری تعلیم فراہم کرنا آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بچوں کو تعلیم سے دور رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب سے تعلیمی نظام صوبوں کے پاس آیا ہے، گزشتہ 10 برسوں میں اس کی تباہی شروع ہوئی ہے۔ مختلف وجوہات اور سموگ، ڈینگی یا پیٹرول بچت جیسے بہانوں کے نام پر اب تک 173 دن اسکولوں میں کوئی پڑھائی نہیں ہو سکی، اور اب مزید 90 دن کی چھٹیاں دے کر بچوں سے تعلیم کا بنیادی حق چھینا جا رہا ہے۔
کاشف مرزا نے سوال اٹھایا کہ اگر سندھ اور خیبر پختونخوا میں گرمیوں کی صرف 2 ماہ کی چھٹیاں ہو رہی ہیں، تو پنجاب میں 90 دن کی طویل چھٹیاں کیوں دی جا رہی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر سمر کیمپ لگانے کی اجازت ہے تو پھر ریگولر تعلیمی سیشن کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کے اس غیر آئینی نوٹیفکیشن اور 90 روز کی چھٹیوں کو فوری کالعدم قرار دیا جائے۔
چیئرمین ایسوسی ایشن نے مزید بتایا کہ انہوں نے وزیرِ اعظم کو ایک خط لکھ کر بجٹ میں جی ڈی پی کا 5 فیصد تعلیم کے لیے مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ملک میں اس وقت 2 کروڑ آؤٹ آف اسکول بچوں کو کلاس رومز میں لانے کے لیے 2 لاکھ نئے اسکولوں اور 20 لاکھ اساتذہ کی فوری ضرورت ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


