اتوار, فروری 8, 2026
اشتہار

جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق تمام درخواستیں خارج

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق تمام درخواستیں خارج کردیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت چیف جسٹس کے کے آغا اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل بینچ نے کی، جس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، جامعہ کراچی کے وکیل اور دیگر وکلاء پیش ہوئے۔

سماعت چیف جسٹس کے کے آغا اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل بینچ نے کی، جس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، جامعہ کراچی کے وکیل اور دیگر وکلاء پیش ہوئے۔

جسٹس طارق جہانگیری نے مؤقف اختیار کیا میں اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، مجھے کبھی کراچی یونیورسٹی کی جانب سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے ، جس پر جسٹس کے کے آغا کا کہنا تھا کہ ہم پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ دیکھیں گے۔

جسٹس طارق محمود نے کہا کہ میں اس کیس میں متاثرہ فریق ہوں تو جسٹس کے کے آغا نے پوچھا کہ جس نے کیس فائل کیا ہے وہ وکلاء کہاں ہیں ،؟

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ متاثرہ شخص کو شامل کیے بغیر کیسے درخواست قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ پہلی بار ہائی کورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے، میرا جرم حلف سے وفاداری بنا دیا ہے وعدہ کیا تھا کہ حلف سے بے وفائی نہیں کروں ، میری ڈگری اصلی ہے، امتحان میں بھی بیٹھا تھا، 34 برس بعد جعل سازی کرکے ڈگری متنازع بنا دی گئی، میرے خلاف کرپشن کا الزام نہیں ہے، میں نے کسی نے کہنے پر فیصلے نہیں کئے مجھے کم از کم موقع دیا جائے بھلے میرے خلاف فیصلہ دیں لیکن سماعت کو موقع دیا جانا چاہیئے۔

بیرسٹر صلاح الدین اور دیگر وکلاء نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کیس دوسرے بینچ میں مقرر تھا، جسے اچانک منتقل کر کے سماعت کے لیے لگایا گیا ہے، جو شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی بینچ اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتا اور درخواست کے قابل سماعت ہونے سے پہلے بینچ کی تشکیل پر فیصلہ ہونا چاہیے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف اپنایا کہ یہ درخواست نمٹا دی گئی ہے، اگر کوئی متاثر ہے تو اپیل فائل کرے، جامعہ کراچی کے وکیل نے بھی کہا کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر جوڈیشل آرڈر موجود ہے۔

دوران سماعت وکلاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور کمرہ عدالت چھوڑ گئے، جس پر عدالت نے تمام درخواستیں عدم پیروی پر خارج کر دیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں