جمعرات, دسمبر 11, 2025
اشتہار

کیڈٹ کالج وانا حملے سے متعلق ہوش ربا انکشافات سامنے آگئے

اشتہار

حیرت انگیز

راولپنڈی : کیڈٹ کالج وانا پر حملے کرنے والے دہشت گردوں اور حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلات سامنے آگئیں۔

تفصیلات کے مطابق کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ، سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگرد افغان شہری تھے اور حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی جبکہ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نورولی محسود نے دیا –

سیکورٹی ذرائع نے کہا دہشت گرد پوری کاروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل پیرا تھے، حملے کی منصوبہ بندی خارجی "زاہد” نے کی اور خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری "جیش الہند” کے نام سے قبول کی-

ذرائع کا کہنا تھا کہ خارجی نورولی فتنہ الخوارج (TTP ) سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا تھا، اِسی لئے حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں خارجی بار بار جیش الہند کا نام لیتا رہا۔

ذرائع نے بتایا افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھتا ہے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خوارج "جیش الہند” کا متعدد بار نام لیتے ہوئے اردو میں بات کر رہا ہے تا کے اصل شناحت سامنے نہ آئے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اس حملے کیلئے تمام سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا، جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے۔

کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سیکورٹی خدشات بڑھانا تھا جو کہ بھارتی ایجنسی RAW کی ڈیمانڈ تھی۔ حملے میں مارے گئے افغان دہشت گردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے تاہم نیشنل ایکشن پلان اور عزم اے استحکام کے تحت آخری دہشتگرد ختم ہونے تک انشاءاللہ آپریشن جاری رہیں گے۔

اہم ترین

لئیق الرحمن
لئیق الرحمن
لئیق الرحمن دفاعی اور عسکری امور سے متعلق خبروں کے لئے اے آروائی نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں

مزید خبریں