The news is by your side.

Advertisement

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 138 واں یوم ولادت آج منایا جا رہا ہے

شاعرِ مشرق مفکر ِپاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال کا 138 واں یوم ولادت آج منایا جارہا ہے.

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877کو پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں پیداہوئے تھے، آپ بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔

ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور پھر لاہور کا رخ کیا، 1899 میں ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج میں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور اس دوران شاعری بھی جاری رکھی۔ علامہ اقبال نے 1905 میں برطانیہ چلے گئے جہاں پہلے انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا اور پھر معروف تعلیمی ادارے لنکنزاِن میں وکالت کی تعلیم لینا شروع کردی بعد ازاں بعد وہ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے انھوں نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر محمد اقبال نے 1910 میں وطن واپسی کے بعد وکالت کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے فکری اور سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا۔

انہوں اپنی شاعری سے حکیم الا اُمت کا خطاب بھی حاصل کیا ۔علامہ اقبال نے اپنی حیات میں 17 کتابیں لکھیں جوکہ نہایت مقبول ہوئیں۔جن میں بال جبریل ،بانگ درا سب سے زیادہ پڑھی جانے لگیں ۔فارسی اور اردو میں انکی شاعری کو یکساں مقام حاصل ہے ۔شاعر مشرق اس لیئے کہا جاتا ہے کہ سارے مشرق میں علامہ اقبال جیسا شاعر پیدا نہیں ہوسکا ،بلکہ انکی شاعری نے وہ مقام حاصل کیاکہ جس نے قوم کو بیدار کیا.

علامہ اقبال کو دورجدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا، یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی خالق سمجھا جاتا ہے گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔


علامہ اقبال کی اردو، انگریزی اور فارسی زبان میں تصانیف میسر ہیں.

تصانیف

نثر

علم الاقتصاد-1903

فارسی شاعری

اسرار خودی-1915
رموز بے خودی-1917
پیام مشرق-1923
زبور عجم-1927
جاوید نامہ-1932
پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق-1936

ارمغان حجاز (فارسی-اردو)-1938

اردو شاعری

شکوہ
جواب شکوہ
خصر راہ
والدہ مرحومہ کی یاد میں
تصورات و نظریات
خودی
عقل و عشق
مرد مومن
وطنیت و قومیت
اقبال کا تصور تعلیم
اقبال کا تصور عورت
اقبال اور مغربی تہذیب
اقبال کا تصور ابلیس
اقبال اور عشق رسول

آپ 21 اپریل 1938 کو ساٹھ سال کی عمر میں لاہور میں انتقال فرما گئے آپ کا مزار بادشاہی مسجد کے سائے میں مرجع خلائق ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں