site
stats
اے آر وائی خصوصی

علامہ اقبالؒ کا141واں یوم ولادت آج منایا جارہا ہے

نوجوانوں کو خودی کا درس دینے والے مصور پاکستان اور بیسویں صدی کے عظیم صوفی شاعر حضرت علامہ محمد اقبالؒ کا ایک سو اکتالیسواں یوم ولادت آج منایا جارہا ہے،مصور پاکستان نے شاعری کے ذريعے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا۔

شاعر مشرق حکیم الامت اور سر کا خطاب پانے والے ڈاکٹر علامہ اقبال 9 نومبر اٹھارہ سو ستتر (1877) کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا، آپ نے قانون اور فلسفے ميں ڈگرياں لیں لیکن جذبات کے اظہار شاعری سے کیا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

ملت اسلامیہ کو ” لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری “ جیسی آفاقی فکر دینے والے علامہ اقبالؒ نے قانون اور فلسفے میں ڈگریاں لیں لیکن جذبات کے اظہار شاعری سے کیا، اقبالؒ نے اپنے خیالات اشعار کی لڑی میں ایسے پروئے کہ وہ قوم کی آواز بن گئے۔

شاعر مشرق نے یورپ اور انگلستان میں زندگی کا ایک بڑا حصہ گزارا لیکن انہوں نے انگریزوں کا طرز رہن سہن کبھی نہیں اپنایا، علامہ اقبالؒ نے اپنے کلام میں زیادہ ترنوجوانوں کو مخاطب کیا، علامہ اقبالؒ کو دو جدید کا صوفی بھی سمجھا جاتا ہے۔

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر​
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر​

شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے۔

علامہ اقبال کی اردو شاعری

بانگ درا
بال جبریل
ضرب کلیم

انگریزی تصانیف

فارس میں ماوراء الطبیعیات کا ارتقاء
اسلام میں مذہبی افکار کی تعمیر ن

اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا، ان کے کئی کتابوں کے انگریزی، جرمنی ، فرانسیسی، چینی ، جاپانی اور دوسری زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے معترف ہیں، بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں

وکالت کے ساتھ ساتھ آپ نے سیاسی تحریکوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے آپ کو سرکا خطاب ملا، 1926 ء میں آپ پنجاب اسمبلی کے ممبر چنے گئے، آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔


مزید پڑھیں: علامہ اقبال کا آفاقی کلام نامور گلوکاروں کی آواز میں


 آپ کا الٰہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔

ایران کے مشہورشہر مشہد میں ایک شاہراہ شاعرمشرق علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کے نام سے منسوب ہے۔ علامہ محمد اقبال کے نام سے منسوب اس شاہراہ کا نام ’’بولیوارڈ اقبالِ لاہوری‘‘ ہے۔

یاد رہے کہ شاعرِمشرق علامہ محمد اقبال نے کبھی بھی ایران کا دورہ نہیں کیا تاہم ان کے فارسی کلام کے سبب ایران میں ان کے قارئین کی تعداد بہت زیادہ ہے

ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔

علامہ اقبال اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن قدرت کی منشاء سے پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ء(بمطابق 20 صفر 1357ھ) میں علامہ انتقال کر گئے تھے۔ (انا للہ واناالیہ راجعون) ۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top