گیا دور سرمایہ داری گیا
تماشا دکھا کر مداری گیا
1929 میں دنیا شدید معاشی بحران کا شکار ہوئی تھی جسے گریٹ ڈپریشن کہا جاتا ہے۔ اس کا آغاز امریکی اسٹاک مارکیٹ ’وال اسٹریٹ‘ کے کریش ہونے سے ہوا، اور پھر امریکا اور یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ہزاروں بینک دیوالیہ ہوئے، دنیا بھر کی معیشتیں تباہ ہو گئیں، کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے اور سرمایہ دارانہ معیشت کی کمزوریاں کھل کر سامنے آئیں۔ اس شعر سے معلوم ہوتا ہے اقبال نے یہ محسوس کیا تھا کہ سرمایہ داری کا وہ نظام جو خود کو دنیا کا نجات دہندہ سمجھتا تھا، دراصل انسان کو استحصال، غربت اور طبقاتی تقسیم دے رہا ہے۔
اُس دور میں برصغیر سمیت ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک یورپی طاقتوں کے زیرِ قبضہ تھے۔ اقبال اگر سرمایہ داری کو محض ایک معاشی نظام کے طور پر دیکھتا تو شاید یہ شعر وجود میں نہ آتا، سامراج، نوآبادیاتی استحصال اور کمزور قوموں کی لوٹ مار کے ایک سفّاک ذریعے کو انھوں نے ویسے ہی دیکھا جیسے وہ تھا۔ یہ وہ دور تھا جب 1917 کے روسی انقلاب کے بعد دنیا بھر میں سوشلزم اور اشتراکیت کا چرچا بڑھ رہا تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں ایک نئے معاشی تصور نے جنم لیا تھا۔ اسی کے زیرِ اثر اقبال نے سرمایہ داری کے ’’ممکنہ‘‘ خاتمے کو محسوس کیا۔
اقبال نے مداری کا لفظ بہ طور استعارہ استعمال کیا۔ اس سے مراد وہ سرمایہ دارانہ قیادت اور نظام ہے جس نے چمک دمک، ترقی کے دعوؤں اور خوش حالی کے تماشے سے دنیا کو متاثر کیا مگر آخرکار اپنی حقیقت ظاہر کر دی۔ اقبال کے موضوعات کو مدِ نظر رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ شعر اردو سمجھنے والی دنیا کے لیے معاشی پیش گوئی کے ساتھ ساتھ ان کی تہذیبی، اخلاقی اور سیاسی تنقید کے مخصوص انداز کا مظہر بھی ہے۔
اس پیش گوئی کے مطابق سرمایہ داری تو ختم نہیں ہوئی بلکہ امریکا سمیت مغربی دنیا نے خود کو نئے انداز میں ڈھال لیا۔ ٹیکنالوجی، منڈی اور عالمی تجارت کے ذریعے سرمایہ داری مزید طاقت ور ہو گئی، جب کہ سرد جنگ کے بعد سوویت طرز کی اشتراکیت کمزور پڑ گئی۔ یعنی جس متبادل نظام سے سرمایہ داری کو خطرہ تھا وہ خود ٹوٹ گیا، جب کہ سرمایہ داری نئی شکلوں میں زندہ رہی۔
سیاق کو دیکھا جائے تو اس شعر کی معنویت اس پیش گوئی سے کہیں زیادہ ہے کہ سرمایہ داری بس ختم ہونے والی ہے، اس میں دراصل اس نظام کے اخلاقی، انسانی اور معاشی بحران کی طرف اشارہ موجود ہے، جس پر اس شعر کی صورت میں تنقید آج بھی متعلق محسوس ہوتی ہے۔ انیس سو انتیس کے بعد بھی سرمایہ داری کے بحران بار بار آئے، خاص طور پر 2008 کے بحران میں بڑے بینک اور مالیاتی ادارے گرنے لگے، اور دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام پر شدید تنقید ہوئی۔
اس کے اخلاقی بحران کی شدت دیکھیں کہ دولت کا ارتکاز مزید بڑھ گیا ہے، آج دنیا میں بہت تھوڑے لوگوں کے پاس بے پناہ دولت ہے جب کہ اربوں لوگ غربت یا معاشی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ براہِ راست نوآبادیاتی نظام تو بڑی حد تک ختم ہو گیا لیکن معاشی دباؤ، عالمی مالیاتی اداروں اور کارپوریٹ طاقت کے ذریعے طاقت ور ممالک کا اثر و رسوخ اب بھی قائم ہے، یعنی آج ہم نو سامراجیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں اقبال کی تنقید اب بھی اخلاقی سطح پر اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ اُس وقت تو وہ سرمایہ داری کے مکمل خاتمے سے زیادہ اس کے بحران ہی کو دیکھ رہے تھے۔
لیکن جب وہ ساقی نامہ کا اگلا شعر کہہ رہے تھے تو کیا وہ کسی مخصوص، نئے معاشی ماڈل کو دیکھ رہے تھے یا صرف مشرق کی بیداری کو؟
اگلے شعر میں وہ کہتے ہیں:
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
شاید، جب اقبال یہ اشعار لکھ رہے تھے تب ماؤ زے تنگ کی تحریک ابتدائی مرحلے میں تھی، 1949 کا کمیونسٹ انقلاب ابھی نہیں آیا تھا اور موجودہ چینی ماڈل تو بہت بعد کی چیز ہے۔ اس میں چین کے معاشی ماڈل کی پیش گوئی سے زیادہ ایشیا کے سیاسی بیدار ہونے، نوآبادیاتی نظام کے خلاف اٹھنے، اور مشرقی اقوام کی نئی خود آگاہی کی طرف اشارہ ہے۔ چین صدیوں کی سیاسی کمزوری، بیرونی تسلط اور داخلی جمود کے باعث ایک سوئی ہوئی تہذیب کی مانند تھا۔ چین مغربی طاقتوں اور جاپان کے دباؤ میں تھا، افیون جنگوں اور اندرونی بحرانوں نے اسے کم زور کر دیا تھا مگر ساتھ ہی وہاں انقلابی تحریکیں بھی اٹھ رہی تھیں۔ چین کو دوبارہ بیدار ہوتے شاید محسوس کیا جا سکتا تھا۔
ہمالہ کے چشمے ابلنا پورے ایشیا، خصوصاً برصغیر اور وسطی ایشیا کی بیداری کا استعارہ ہے۔ کہ نئی سیاسی قوتیں پیدا ہو رہی ہیں اور ایشیا مغربی غلبے کو چیلنج کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن یہ بہ ہر حال اس پیش گوئی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے کہ آج خود چین سرمایہ داری نظام کا ایک بڑا اور مضبوط پرزہ بنا ہوا ہے۔ چین نے ڈینگ شیاؤ پنگ کی قیادت میں منڈی کی معیشت، نجی سرمائے، عالمی تجارت اور صنعتی سرمایہ کاری کو بڑے پیمانے پر اپنا لیا۔ سیاسی کنٹرول تو کمیونسٹ پارٹی کے پاس ہے مگر معاشی میدان میں اس نے بھرپور سرمایہ دارانہ طریقے ہی اپنائے اور ایک طرح سے ریاستی سرمایہ داری کا ایک نمونہ بن گیا۔ چین کی یہ بیداری اُس معاشی یا روحانی نظام کے مطابق نہیں ہوئی جس کا خواب اقبال دیکھتے تھے۔
نوٹ: علامہ محمد اقبال کے یہ دو شعر ان کی مشہور نظم ’’ساقی نامہ‘‘ کا حصہ ہیں۔ یہ نظم اُن کے مجموعۂ کلام بالِ جبریل میں شامل ہے۔
رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔


