جمعہ, فروری 13, 2026
اشتہار

قیامِ یورپ اور علامہ اقبالؒ کی ماہیتِ قلبی

اشتہار

حیرت انگیز

علامہ اقبال ۱۹۰۵ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ تشریف لے گئے۔ اگرچہ ہندوستان سے ایم اے پاس کر کے گئے تھے پھر بھی یورپی درس گاہوں کی ضرورت کے مطابق انھوں نے ٹرنٹی کالج سے ۱۹۰۶ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔

۱۹۰۸ میں انھوں نے مڈل ٹمپل (Middle Temple) سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران میں میونخ یونیورسٹی جرمنی سے پی ایچ ڈی کا امتحان پاس کیا۔ یوں انھوں نے تین برسوں میں تین ڈگریاں حاصل کیں جن کے موضوعات ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھے۔ یہ ان کی ذہانت اور فطانت ظاہر کرتی ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان تین برسوں میں پڑھائی میں کس قدر مصروف و مشغول رہے۔ اس کے باوجود نہ صرف انھوں نے یورپ کے فلسفیوں، شاعروں اور ادیبوں کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کیا بلکہ بحیثیت مجموعی ان کی سوچ اور فکر کو بخوبی جان لیا۔ اس کا اظہار ان کے کلام میں جابجا موجود ہے۔

عذابِ دانش حاضر سے با خبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل

اقبال دیارِ غیر میں رہتے ہوئے ہر وقت مسلمان اور ملّتِ اسلامیہ کی فکر میں گم رہتے۔ ان کے اس دور کے کلام سے صاف مترشح ہے کہ اقبال کی راہیں متعین ہو چکی ہیں۔ بلکہ اپنی قوم کی منزل اور ان کے نصب العین کا بھی تعین کر چکے ہیں۔ اب اس پُرخطر راہ پر خود بھی چلنا تھا اور قوم و ملّت کی بھی راہ نمائی کرنی تھی۔ اقبال میں مغرب زدگی نہ پہلے تھی نہ قیامِ یورپ کے دوران آئی۔ مغربی تہذیب سے مرعوبیت یا اندھی تقلید کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوا کیونکہ وہ طالب علم اور محقق تھے۔ یورپ کا ظاہری تماشا ضرور دیکھا مگر محققانہ نظر سے۔ اُنھیں ان میں خوبیاں بھی دکھائی دیں اور ان کی روح کے خالی پن کا بھی ادراک ہوا۔

یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات

یورپ میں رہ کر اقبال کے ذہن و دل میں جو انقلابی تبدیلی آئی بلکہ ان کی کایا پلٹی، وہ ان کا وطن پرستی سے انحراف تھا۔ اس کی وجہ بھی یورپ بنا کیونکہ وہاں وطن پرستی کی جو لہر چلی تھی اس کی وجہ سے مختلف اقوامِ یورپ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے تھے۔ وطن پرستی اور اس کے نتیجے میں پنپنے والی باہمی دشمنیاں انھی کو خاک و خون میں نہلانے والی تھی۔ اقبال نے اس کی پیشن گوئی کر دی تھی اور جو چند سال بعد پہلی عالمگیر جنگ کی صورت میں سچ ثابت ہوئی۔ اقبال کا شعر ہے:

ہوتی ہے ترک کلیسا سے حاکمی آزاد
فرنگیوں کی سیاست ہے دیو بے زنجیر

راقم ۲۰۰۰ء میں یورپ کے سیاحتی دورے پر گیا تو بالخصوص ہائیڈل برگ کی اس گلی میں بھی گیا جو اقبال کے نام سے موسوم ہے۔ میں سیاحوں کے ایک گروپ کے ہمراہ محوِ سفرتھا۔ سوئزر لینڈ کے حسین شہر لیوژرن سے سفر کرتے ہوئے ہم ہائیڈل برگ میں رکے۔ ہائیڈل برگ میں ہمارا قیام محض چند گھنٹے کا تھا جب کہ ہماری منزل میونخ تھی۔ ہماری کوچ ایک دریا کے کنارے رکی جس کے دونوں اطراف انتہائی دل کش مناظر تھے۔ ہماری گائیڈ نے جونہی بتایا کہ یہ دریائے نیکر ہے تو میرے خیال میں فوراً اقبال کی مشہور نظم ’’دریائے نیکر کے کنارے‘‘ آگئی۔ بہترین فطرت نگاری کے ساتھ سکوت اور خامشی کا یوں نقشہ کھینچا ہے کہ نظم پڑھتے ہوئے انسان شجر و حجر کی طرح خود کو اس خاموش منظر کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔

خاموش ہے چاندنی قمر کی
شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی
وادی کے نوا فراموش خاموش
کہسار کے سبز پوش خاموش

فطرت بے ہوش ہو گئی ہے
آغوش میں شب کے سو گئی ہے
کچھ ایسا سُکوت کا فسوں ہے
نیکر کا خرام بھی سکوں ہے
تاروں کا خموش کارواں ہے
یہ قافلہ بے درا رواں ہے

میں گلی کے کنارے کھڑا تقریباً ایک صدی قبل کے ان لمحات کو ذہن میں لانے کی کوشش کر رہا تھا جب وہ عظیم فلسفی شاعر اس گلی میں سے گزرتا ہو گا۔ سامنے دریائے نیکر محوِ خرام ناز ہو گا۔ دوسری جانب سبزے کی چادر میں لپٹا کہسار (Konigstuhl) جھانکتا ہو گا۔ ان دلفریب مناظر کو دیکھ کر اقبال کے شاعرانہ احساسات اور جذبات کی کیفیت کیا ہوتی ہو گی۔ یہ دلکش اور رنگین نظارے ان کے شاعرانہ تخیل کو کس قدر مہمیز دیتے ہوں گے۔ پھر یہ خیال آتا کہ شاعر کے تصورا نہ تخیل میں جو منظر بسے ہوتے ہیں کوئی خارجی منظر ان کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ شاعر کے تخیل میں ایک جہاں آباد ہوتا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے اس میں سے اپنا من چاہا منظر منتخب کرتا ہے اور اس کی تصویر کشی کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال خود علامہؒ کی نظم’’ہمالہ‘‘ ہے، اس میں کوہسار کی جو منظر کشی کی گئی ہے وہ بے مثل ہے۔ قاری اس میں کھو کر رہ جاتا ہے اور خود کو اس کوہ و دمن کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ اقبالؒ کا حسن تخیل اور شاعرانہ کمال تھا۔ ورنہ جب یہ شہرہ آفاق نظم تخلیق ہوئی اس وقت تک ہمالہ تو درکنار انھوں نے کوئی پہاڑ بھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے داخلی منظر نگاری بھی کہتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اقبال خارجی مناظر سے داخلی مناظر کی طرف مائل ہوتے گئے۔ ان کی خارجی منظر نگاری عمومی طور پر ان کے پہلے دورِ شاعری تک محدود ہے۔ اقبال خارجی مناظر کو بھی داخلی مناظر کے اظہار کا ذریعہ بنا دیتے تھے۔ مثلاً مسجد قرطبہ کی ظاہری شان و سطوت بیان کرتے ہوئے اپنی قوم کے لیے بصیرت افروزپیغام بھی دے دیا۔

جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
رُوح اُمم کی حیات کشمکشِ انقلاب

عام شعرا اور اقبالؒ میں یہی فرق ہے کہ وہ مسلمانوں کے عظیم ماضی کی اس نشانی کے منظر سے اپنے فلسفیانہ خیالات کو شعری جامہ پہنا دیتے ہیں۔ عام شاعر اس سے منظر نگاری یا پھر زیادہ سے زیادہ احساسِ زیاں کی شاعری کرتا مگر اقبال نے اس میں فلسفہ زمان و مکاں بیان کر دیا۔ تاہم اقبال کے شاعرانہ تخیل کی حد کہیں بھی حقیقت سے متجاوز نہیں ہوتی۔ان کا فلسفہ بھی حیات کے پوشیدہ مگر حقیقی رموز آشکار کرتا ہے۔

یورپ میں قیام کا زمانہ (۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء تک) اقبال کی شاعری کا دوسرا دور سمجھا جاتا ہے۔ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں یورپ کی تہذیب و تمدن اور ان کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی افکار جاننے کا موقع ملا۔ ان کے قلب و ذہن میں تہذیبِ یورپ کا جو تصور تھا وہ پاش پاش ہو گیا اور اس کے اندر سے مشرقی تہذیب و تمدن کا سورج طلوع ہوا۔ انھوں نے یورپ میں بیٹھ کر بین الاقوامی مسائل خصوصاً اسلامی دنیا کے حالات کا بھرپور جائزہ لیا۔ ملّتِ اسلامیہ کا شان دار ماضی، ناگفتہ بہ حال اور مخدوش مستقبل نے ان کے ذہن و دل میں بے چینی پیدا کر دی۔ ان کی دور بین نگاہوں نے مسلمانوں کی خواب غفلت دیکھ لی تھی اس پر ان کی قلب و روح بے چین ہو گئی۔ اس کا اظہار ان کی شاعری میں بھرپور انداز میں ہوتا ہے۔

دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے اُمتوں کے مرضِ کہن کا چارہ

اُمت ِمسلمہ کے زوال، اس کے اسباب اور اس کے بہتر مستقبل کے لیے جتنا علامہ ؒ نے سوچا اور لکھا شاید ہی کسی مسلم اسکالر نے اتنا لکھا ہو۔ وہ عام مسلمان کو مردِ مومن بنا کر دنیا کی امامت کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے۔ ان کے کلام میں ایسی تاثیر موجود ہے کہ کسی بھی باشعور شخص کے ذہن و دل میں انقلاب پیدا کر سکے۔ ان کا فکر انگیز کلام تاقیامت دلوں کو گرماتا رہے گا۔ ان کا ایمان افروز شعر دیکھیے:

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

اقبال کی شاعری کی خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ دیدۂ اُمیدی، ہمایوں افزائی اور روشن مستقبل کے خواب سے کبھی دست بردار نہیں ہوتے ۔ حالات جیسے بھی ہوں اقبالؒ اُمت کو روشن مستقبل کی اُمیددلاتے ہیں:

نکل کے صحرا سے جس نے رُوما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

یورپ میں اقبالؒ کی جو ماہیت قلبی ہوئی اس سے ان کی شاعری میں مزید نکھار آگیا۔ انھیں باہر جا کر احساس ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی بقا اور نجات وطنیت میں نہیں بلکہ اسلام کی ڈور کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔ انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ مغرب جو قوم پرستی میں سب سے آگے ہے وہاں قومیت کے نام، پر استحصال اور ملک گیری کی جیسے دوڑ لگی ہے۔ انگلستان، فرانس، پرتگال اور ہالینڈ جیسے ملکوں نے اسلحے اور سازشوں کے بل بوتے پر آدھی سے زائد دنیا کو غلامی کے پنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ وہ ان غلام اقوام کا آخری قطرہ خون بھی چوسنے پر لگے تھے۔ اس معاملے میں ان ممالک کے درمیان جیسے مقابلہ ہو رہا تھا۔ خود اقبالؒ کا دیس ہندوستان بھی انگریزوں کے قبضہ استبداد میں لہولہان تھا۔ انگریز اس سونے کی چڑیا کا آخری پر تک نوچ لینا چاہتے تھے۔ جب کہ ہندوستانیوں کی اکثریت جنگل کے دور کی زندگی جی رہی تھی۔ نہ تعلیم کی سہولتیں، نہ علاج معالجے کا بندوبست، نہ رسل و رسائل کا انتظام۔ حتیٰ کہ عوام کی اکثریت کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ غلامی کی مشکیں اس طرح کس لی گئی تھیں کہ قدم قدم پر ہندوستانیوں کو اس غلامی کا احساس دلایا جاتا تھا۔ ہندوستانیوں کو ایک عام انگریز کے سامنے سرنگوں بیٹھنا پڑتا تھا۔ اقبال اسی ہندوستان سے جب انگریزوں کے اپنے ملک جاتے ہیں تو انھیں احساس ہوتا ہے کہ ہندوستانیوں کے ساتھ کتنا ناروا سلوک ہو رہا ہے۔ انھوں نے اپنے عوام کے لیے الگ قوانین بنا رکھے ہیں اور غلام اقوام کے لیے الگ قوانین بنا رکھے ہیں جو سراسر ظلم و انصافی پر مبنی ہیں۔ اقبال جیسا حساس شاعر، مفکر اور فلسفی یہ حالات دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ ایسا انقلاب جو اسے اس ظالمانہ نظام سے، اس منافقانہ تہذیب و تمدن سے اور جور و جفا پر مبنی نظام سیاست سے انتہائی برگشتہ کر دیتا ہے۔ انھوں نے یورپی اقوام کی قوم پرستی کے نتائج دیکھے تو سوچا اگر یہی قومیت کا انجام ہے تو اس سے توبہ ہی بھلی۔

یورپ کی فضاوٗں میں پنپنے والی اس ذہنی اور قلبی ماہیت کے بعد اقبال وطن کے اس طرح بت بنا کر پوجنے کو اسلام کی عالمگیر روح کے منافی خیال کرنے لگے۔ انھوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے۔

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کاکفن ہے

بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے

اس کے بعد اقبال تا دمِ مرگ امّتِ محمدی کی ترجمانی کرتے رہے۔ کیونکہ وہ بخوبی جان گئے تھے کہ اُمّت مسلمہ کی بقا اخوت و اتحاد میں مضمر ہے۔ اسے قومیتوں میں تقسیم کرنا وحدتِ دینی کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ اس تقسیم در تقسیم سے وہ نحیف ہو کر غیروں کے دستِ نگر بنے رہیں گے۔

کاش اقبال کی یہ فکر اسلامی حکمرانوں کے قلب و ذہن میں جگہ پا سکے۔

(اس مضمون کے مصنّف طارق مرزا آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ہیں، وہ افسانہ نگار بھی ہیں، سیر و سیاحت کا شوق رکھتے ہیں اور سفرناموں کے علاوہ مختلف ادبی موضوعات پر کئی مضامین سپردِ قلم کرچکے ہیں، ان کی متعدد کتابیں شایع ہوچکی ہیں)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں