The news is by your side.

Advertisement

ّابو العلا معریٰ کون تھے؟

علامہ اقبال کا ایک مشہور شعر ہے۔

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

یہ شعر، خاص طور پر مصرعِ ثانی ضرور آپ نے سماعت کیا ہو گا اور ممکن ہے یہ آپ کے حافظے میں بھی محفوظ ہو۔

یہ اقبالؔ کی ایک نظم کا آخری شعر ہے جو “ابو العلا معریٰ” کے عنوان سے اُن کے دیوان میں‌ شامل ہے۔

یہ نظم ایک فلسفی، مدبّر، دانا و حکیم اور مشہور شاعر کی یاد تازہ کرتی ہے اور اس کی بنیاد اس فسلفی کی ایک خاص عادت ہے۔ مشہور ہے کہ وہ ساری زندگی گوشت اور انڈے سے پرہیز کرتے رہے اور صرف دالیں اور سبزیاں ان کی خوراک میں شامل رہیں۔

تاریخ کے اوراق الٹیے تو معلوم ہو گا کہ ان کا نام احمد بن عبداللہ بن سلیمان معرۃ النعمان تھا۔ کہتے ہیں کہ ان کا وطن قدیم شام کا علاقہ معریٰ تھا جہاں انھوں نے 973 عیسوی میں آنکھ کھولی۔ آپ کو ابو العلا المعری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

آپ محض چار برس کے تھے جب چیچک کا شکار ہوئے اور بینائی جاتی رہی۔ حافظہ غضب کا تھا اور جو بات ایک بار سنتے، ذہن نشین ہوجاتی۔

کہتے ہیں‌ ابتدائی تعلیم حلب، طرابلس اور انطاکیہ کے علمی مراکز سے حاصل کی اور جلد ہی شاعری کی طرف مائل ہوئے۔

انھوں‌ نے کچھ وقت بغداد میں بھی گزارا، لیکن بیماری کے بعد معریٰ لوٹ گئے تھے اور وہاں‌ گوشہ نشیں ہو رہے۔1058 ان کی زندگی کا آخری سال ثابت ہوا۔

یہاں‌ ہم علامہ اقبال کی وہ نظم نقل کررہے ہیں‌ جس کا مشہور شعر آپ نے ابتدا میں‌ پڑھا تھا۔

کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معریٰ
پھل پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقات

اک دوست نے بھونا ہوا تیتر اسے بھیجا
شاید کہ وہ شاطر اسی ترکیب سے ہو مات

یہ خوانِ تَر و تازہ معریٰ نے جو دیکھا
کہنے لگا وہ صاحبِ غفران و لزومات

اے مرغک بیچارہ، ذرا یہ تو بتا تُو
تیرا وہ گنہ کیا تھا یہ ہے جس کی مکافات؟

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تُو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات!

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں