منگل, جولائی 21, 2026
اشتہار

اقبالؔ کا تصوف سے جھگڑا

اشتہار

حیرت انگیز

رابرٹ فراسٹ کا زندگی سے جھگڑا ایک پریمی کا تھا۔ کچھ ایسا ہی جھگڑا اقبالؔ کا تصوف سے ہے۔ شاید عالم خوند میری نے جب اقبالؔ کے یہاں تصوف کی کشش اور اس سے گریز کا ذکرکیا تھا تو ان کے ذہن میں بھی یہی نکتہ تھا۔ بہرحال یہ طے ہے کہ اقبال کو تصوف سے دلچسپی ورثے میں ملی تھی۔ یعنی صوفیوں سے ان کی عقیدت شروع سے آخر تک رہی۔

حضرت نظام الدین اولیاؒ کے متعلق ان کی دو اردو نظمیں ہیں۔ وہ صوفیوں اور درویشوں سے ملنے کے برابر متمنی رہتے تھے۔ ان کی ابتدائی شاعری میں وحدت الوجود کا اثر واضح ہے۔ اسرار خودی اور رموز بے خودی کے دور میں وحدت الوجود کے مخالف ہو گئے لیکن زبور عجم، جاوید نامہ اور ارمغان حجاز میں پھر وحدت الوجود کی جھلک مل جاتی ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ انہوں نے اردو اور فارسی شعر میں عجمی تصوف کی پُرزور مخالفت کی۔ مزاج خانقاہی پر طنز کی، مسلمان کو سلطانی و ملّائی کے ساتھ پیری کا کشتہ بھی کہا، صوفی کی طریقت میں انہیں فقط مستیٔ احوال نظر آئی۔ اپنے خطوں میں وہ اسرار خودی کے دیباچے اور حافظ کے متعلق اشعار پر جو ہنگامہ ہوا، اس کے جواب پر انہوں نے تصوف کے فلسفہ بننے پر، اس کے ترک دنیا کے فلسفے پر، اس کے افکار و اشغال پر، تصوف کے ادارے کے انحطاط پر، پیر پرستی اور قبر پرستی پر سخت اعتراضات کئے۔ اس سلسلے میں ان کے یہ الفاظ ذہن میں رکھنے چاہییں،

(۱) ہندو حکما نے مسئلہ وحدت الوجود کے اسباب میں دماغ کو مخاطب کیا مگر ایرانی شعراء نے اس مسئلے کی تفسیر میں زیادہ خطرناک طریقہ اختیار کیا یعنی انہوں نے دل کو اپنا آماج گاہ بنایا اور ان کی حسین و جمیل نکتہ آفرینیوں کا آخرکار یہ نتیجہ ہوا کہ اس مسئلہ نے عوام تک پہنچ کر اسلامی اقوام کو ذوق عمل سے محروم کر دیا۔ (دیباچہ اسرار خودی)

(۲) میرا فطری اور آبائی میلان تصوف کی طرف ہے اور یورپ کا فلسفہ پڑھنے سے یہ میلان اور قوی ہوگیا تھا کیوں کہ فلسفہ میں یورپ بحیثیت مجموعی وحدت الوجود کی طرف رخ کرتا ہے۔ مگر قرآن پر تدبر کرنے اور تاریخ اسلام کا بغور مطالعہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اپنی غلطی معلوم ہوئی۔ (اسرار خودی پر اعتراض کا جواب)

اقبالؔ نے اپنے ایک خط میں فوق کو لکھا تھا کہ اورنگ زیب کو حافظ کے ایک شعر نے گانے والیوں کو دریا برد کرنے سے باز رکھا اور وہ اس موسیقی اور شاعری کے مضر اثرات ثابت کرتے ہیں، حالانکہ اس سے بہت زیادہ مثالیں موسیقی اور شاعری کے جذبات کو ترفع اور تزکیہ نفس عطا کرنے کی دی جا سکتی ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ صوفیائے کرام نے اسلام کے فروغ میں جو عظیم الشان رول ادا کیا ہے اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ خود ہندوستان میں حضرت معین الدین چشتیؒ، حضرت بختیار کاکیؒ، حضرت نظام الدین اولیاؒ، بندہ نواز گیسو درازؒ، شاہ شرف الدینؒ جیسے صوفیائے کرام کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ علما شہروں میں ہوتے تھے اور ان کا رابطہ عوام سے کم تھا۔ صوفیائے کرام خدا کی سرزمین میں ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے، ان کا تعلق عوام سے گہرا تھا۔ ان کے حلقے میں اکثر لوگ روحانیت سے آشنا بھی ہوتے تھے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار بھی۔

مولانا ابو الحسن علی نے لکھا ہے کہ چنگیز خان کے حملوں کے بعد وسط ایشیا کے حکمرانوں کو اسلام کی طرف لانے میں صوفیائے کرام کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ خود کشمیر کی تاریخ میں شاہ ہمدانؒ اور دوسرے بزرگوں کی اسلام کوپھیلانے میں گراں قدر خدمات کا سب کو اعتراف ہے۔ ہندوستان میں نقش بندی، سہروردی، چشتی اور قادری سلسلوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ان بزرگوں کی انسان دوستی، اخوت و مساوات، خدمت خلق، عوام سے گہرا رابطہ سب کا نقش گہرا ہو جاتا ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ کہا کرتے تھے کہ میرے گھر کے دو دروازے ہیں، بادشاہ ایک سے داخل ہوتا ہے تو میں دوسرے سے چلا جاتا ہوں۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے انحطاط کی ذمہ داری تمام تر صوفیا پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ ہاں جب تصوف، پیر پرستی اور قبر پرستی اور افکار و اشغال کے سہارے ایک ایسا مسلک بن گیا جس کی آڑ میں ہر قید سے آزادی مل گئی، اور جب اس نے ایک منفعت بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر لی تواس پر اعتراضات قدرتی تھے۔

اس لئے اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ تصوف چونکہ زیادہ تر عجمی ہے اس لئے اس کے مضر اثرات سے آگاہ رہنا چاہئے بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اسلامی تاریخ کو اور تصوف کے اس میں رول کو نظرانداز کردیں۔ اقبالؔ عجمیت کے قائل نہیں، ساری عمر نبرد آزما رہے مگر انہوں نے بکھرے خیالات میں یہ تسلیم کیا تھا کہ فتح ایران نے اسلام کو جو کچھ دیا اسے کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ضرب کلیم کی ایک نظم مدنیت اسلام میں عرب کے سوز دروں کے ساتھ عجم کے حسن طبیعت کو بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے خطبات میں صوفیائے کرامؒ کی خدمت کو سراہا ہے جو انہوں نے اسلامی فکر کے فروغ میں انجام دی۔ اس لئے اقبالؔ کو تصوف کا مخالف سمجھنا صحیح نہ ہوگا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بعض صوفیوں کی تاویلوں اور بعض غیرذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے چونکہ اسلامی طرز زندگی میں ضعف آیا اور بعض احکام کی تاویل میں تساہل ہوا اس لئے اقبالؔ نےا ن کی نکتہ چینی ضروری سمجھی۔

(اردو کے بلند پایہ نقاد اور مضمون نگار آل احمد سرور کے مضمون سے اقتباسات)

اہم ترین

مزید خبریں