The news is by your side.

Advertisement

مٹھائیاں بانٹنے والےاب جے آئی ٹی کودباؤ میں لانا چاہتے ہیں، علامہ ناصرعباس

اسلام آباد : مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ حکومت جے آئی ٹی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے ۔جے آئی ٹی کے قیام پر مٹھائیاں بانٹنے والے حکمران اب اسے دباؤ میں لا کر تفتیش سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، خطاب کے دوران علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ آئی ٹی سے متعلق سب کچھ منصوبہ بندی سے کیا جا رہا ہے تاکہ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے معزز بنچ کو انڈر پریشر لایاجاسکے۔

حکمران شفاف تفتیش نہیں چاہتے، اسی لئے بلاوجہ سوالات اٹھا رہے ہیں، حکمران جان لیں کہ عوام عدلیہ اور جے آئی ٹی کے ساتھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نہال ہاشمی کا معاملہ پہلے سے طے شدہ ہے انہوں نے سب کچھ اسکرپٹ کے مطابق کیا۔انہوں نے کہا کہ انتالیس ملکی اتحاد مسلم امہ کوتقسیم کرنے کیلئے عمل میں لایا گیا۔ جنرل راحیل شریف کا اسلامی اتحاد کا سربراہ بننا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ حکومت جنرل راحیل شریف کو واپس بلائے۔

علامہ ناصرعباس کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت رٹ کے قیام میں ناکام ہو چکی ہے۔ بلوچستان میں مزدورغیرمحفوظ ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر بھرپورعملدرآمد کیا جاتا تو آج ملکی حالات بہتر ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا مستقل وزیرخارجہ کی عدم تقرری افسوسناک ہے۔ مستقل وزیر خارجہ ہوتا تو ملکی خارجہ پالیسی واضح اور بہتر ہوتی۔ مقبوضہ کشمیر کربلا کی صورت اختیار کر چکا یے۔پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے باہر نکلے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں