جمعہ, دسمبر 5, 2025
اشتہار

مولانا شبلی: اردو ادب کی ایک دیو پیکر ہستی

اشتہار

حیرت انگیز

مولانا شبلی نعمانی کو برصغیر کے عظیم مصلح و ادیب سرسید کی فکری اور اصلاحی تحریک کا ایک اہم رکن شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی تصانیف میں نہ صرف عالمانہ، محققانہ اور فلسفیانہ استدال ملتا ہے بلکہ ان کی تحریریں‌ جدت و دل آویزی کا نمونہ بھی ہیں۔ وہ شاعر بھی تھے، نقاد و مؤرخ بھی اور ایک دینی اسکالر کے طور پر بھی پہچانے جاتے تھے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ بطور سوانح و تاریخ نگار اور نقاد وہ اپنے عہد میں ممتاز نظر آتے ہیں۔

شبلی 1857ء میں ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں بندول میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ حبیب اللہ وکیل تھے۔ شبلی نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عربی ادب، فلسفہ و منطق اور حدیث و فقہ کی تحصیل کے لیے لاہور، رام پور، غازی پور، سہارنپور اور لکھنؤ وغیرہ کا سفر کیا۔ مولانا محمد طارق چڑیا کوٹی، مولانا ارشاد حسین، مولانا احمد علی اور مولانا فیض الحسن سہارنپوری جیسے اپنے وقت کے نامور علماء سے کسب فیض کیا۔ اس طرح انیس سال کی عمر میں ابتدائی درجات طے کرکے وکالت کا امتحان پاس کیا۔ ان کا رجحان علم و ادب کی طرف زیادہ تھا اس لیے وکالت کا پیشہ ترک کر دیا اور ایک موقع پر علی گڑھ میں سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی۔ جنھوں نے شبلی کو ان کی علمی لیاقت سے متاثر ہوکر عربی و فارسی کا پروفیسر مقرر کردیا۔ یہاں مولانا شبلی نعمانی کو سرسید اور پروفیسر آرنلڈ کی صحبت میسر آئی جس سے ان کے علمی مذاق میں نکھار پیدا ہوا۔ پروفیسر آرنلڈ نے ان سے عربی پڑھی اور شبلی نعمانی نے ان سے فرانسیسی سیکھی۔ علی گڑھ میں کم و بیش سولہ سال تک تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بعد میں حیدر آباد دکن کے محمکۂ تعلیم سے وابستہ ہوگئے۔ پھر لکھنؤ کی مشہور درس گاہ ندوۃالعماء کے ناظم مقرر ہوئے اور اس کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1913 ء میں اعظم گڑھ آکر دارالمصنفین کے نام سے ایک علمی ادارہ قائم کیا جس کی علمی و ادبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اس وقت کی حکومت نے شبلی نعمانی کو شمس العماء کا خطاب دیا تھا۔ 18 نومبر 1914ء میں مولانا شبلی نعمانی کا انتقال ہو گیا تھا۔ آج ان کی برسی ہے۔

شبلی شاعر اور نہایت بلند ذوق کے حامل ایسے سخن شناس تھے جنھیں‌ اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شبلی نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ دراصل شبلی نعمانی ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے سرسیّد احمد خاں کی فکر کے زیر اثر اور فیضِ صحبت میں محدود ذہنیت اور تنگ نظری سے نکل کر علم و ادب اور اسلامی تاریخ کے میدان میں بھی اپنی ذہانت اور علمی استعداد سے بے شمار خوش رنگ پھول کھلائے۔ انھوں نے اردو زبان میں اسلامی تاریخ کا صحیح ذوق پھیلایا۔ عظیم مسلمان شخصیتوں کے حالات زندگی قلم بند کرتے ہوئے متعدد نامور اسلاف کے بارے میں قلم اٹھایا اور ان کی سب سے مشہور و مقبول کتاب خلیفۂ دوّم حضرت عمر فاروق کی سوانح بعنوان ’’الفاروق‘‘ ہے۔ ان کی آخری تصنیف ’’سیرت النبی‘‘ ان کی زندگی میں مکمل نہیں ہو سکی تھی۔ اسے ان کے شاگرد سید سلیمان ندوی نے مکمل کر کے شائع کرایا۔ ان تصانیف کے علاوہ شبلی نے بے شمار تاریخی و تحقیقی مضامین لکھے، جس سے تاریخ دانی اور تاریخ نویسی کا عام شوق پیدا ہوا۔

علی گڑھ کی ملازمت کے دوران ہی مولانا نے ترکی شام اور مصر کا سفر کیا۔ واپسی پر انھوں نے المامون اور سیرت نعمان لکھیں۔ 1890ء میں شبلی نے ایک بار پھر ترکی، لبنان اور فلسطین کا دورہ کیا اور وہاں کے کتب خانے دیکھے۔ اس سفر سے واپسی پر انھوں نے ’’الفاروق‘‘ لکھی۔ 1907 میں گھر میں اچانک بندوق چل جانے سے وہ اپنا ایک پیر گنوا بیٹھے تھے اور مصنوعی ٹانگ کے ساتھ باقی زندگی گزاری۔ مولانا نے دو شادیاں کیں، پہلی شادی کم عمری میں ہی ہو گئی تھی۔ پہلی بیوی کا 1895 میں انتقال ہو گیا۔ 1900ء میں 43 سال کی عمر میں انھوں نے دوسری شادی کی، اور ان کی دوسری بیوی 1905ء تک حیات رہیں۔

سیرت النبی، الفاروق، المامون، الغزالی، شعرالعجم، سوانح مولانا روم، سیرت النعمان، موازنہ انیس و دبیر، علم الکلام، اورنگ زیب عالم گیر پر ایک نظر اور بے شمار مقالات شبلی نعمانی کے ذہنِ رسا اور فکر و نظر کی یادگار ہیں۔ شاعری میں مثنوی صبح امید، قطعات اور دیوان شبلی موجود ہیں۔

آفتاب احمد صدیقی نے شبلی سے متعلق لکھا ہے: ’’اردو ادب کی دیو پیکر ہستیوں میں شبلی ہی وہ خود دار ہستی ہے، جس نے مغربی علوم و فنون کی تیز و تند آندھی میں بھی مشرقی علوم و فنون کے دیے کو نہ صرف بجھنے نہیں دیا بلکہ اپنی تلاش و جستجو، تحقیق و تدقیق کے روغن سے اس کی لَو کو بڑھاتی رہی یہاں تک کہ ’’چراغ خانہ‘‘ ’’شمع انجمن‘‘ کے دوش بدوش کھڑا ہونے کے لائق ہو گیا۔‘‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں