منگل, اپریل 14, 2026
اشتہار

شبلی:‌ تاریخ کا معلّمِ اوّل

اشتہار

حیرت انگیز

یورپ کے علمی قلم رو میں ایک زندہ دل طبقہ ایسا بھی ہے جو انسان کی دماغی پیداوار یعنی کتابوں کو ’’علمی حرم‘‘ کی حیثیت سے دیکھتا ہے اور ان کا دلدادہ ہے۔ اس کے خیال میں کسی کتب خانہ کا ایک گوشہ جہاں اس کی منظورِ نظر ’’نازنینوں‘‘ کا جھرمٹ ہو اور جو ہمیشہ اس کی فرصت اور مرضی کی منتظر رہتی ہوں، اس شاہی محل سے کہیں بڑھ کر ہے جس کے لوازمِ عیش صرف دور سے دیکھنے کی چیز ہیں۔

بہرحال، ایک ایسا گروہ موجود ہے جو علمی دنیا میں درجۂ استغراق رکھتا ہے اور زمانہ کے سرد و گرم سے قطعاً بے پروا ہے، اس کا دائرۂ مخصوص خود ایک دنیا ہے جہاں ایسے سامانوں کی کمی نہیں، جن سے قوت احساس ہر طرح کی لذت و انبساط حاصل کرتی رہتی ہے۔

اسی حلقہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی نفسیات اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ وہ معمولی مطبوعات کو پسند نہیں کرتے، خاص خاص تصنیفات کے قیمتی ایڈیشن شائع کیے جاتے ہیں۔

ہندوستان میں اس قسم کے معزز شواہد بہ مشکل پیش کیے جا سکتے ہیں لیکن طبقۂ اعلیٰ کے مصنفین میں علاّمہ شبلی کی تصنیفات کو یہ امتیاز حاصل ہے، جو حسنِ سیرت کے ساتھ صورت کی بھی اچھی ہوتی ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ لفافہ اچھا ہو تو ملفوف کو اس سے کہیں زیادہ اچھا ہونا چاہیے۔

علّامہ شبلی اپنے موضوعِ سخن اور اس لحاظ سے کہ انھوں نے اپنے ملکۂ راسخہ یعنی فطری قوت تصنیف سے وہی کام لیا جو ان کے دل و دماغ کا اچھے سے اچھا مصرف ہو سکتا تھا۔ ملک کے مصنفین میں یہ سرفہرست تو تھے ہی، میں دیکھتا ہوں اب بہت آگے نکلے جاتے ہیں۔ انھوں نے فلسفۂ تاریخ کو صرف اس لحاظ سے کہ وقت کی چیز ہے، اپنا خاص فن قرار دیا اور ترتیباً جس پیمانہ پر یہ اظہارِ خیال کرتے رہے وہ ایک منحرف بھی تسلیم کرے گا کہ ان کی قوتوں کا صحیح سے صحیح استعمال تھا، جو خیال میں آ سکتا ہے۔ ملک میں اچھے لکھنے والوں میں ’’قوت فیصلہ‘‘ کی ہمیشہ کمی رہی، یعنی دماغوں میں اقتضائے وقت کی رعایت نہیں۔ وقت ہی آگے چل کر بتائے گا کہ ان کے نتائج فکر ایک طرح کی خود رو پیداوار ہیں، جن کی شادابی صرف ایک موسمی چیز ہے۔ لیکن علامہ شبلی سے ہم کو اس قسم کی شکایت نہیں، یہ بلا بارِ تہدید و فرمائش جو کچھ کرتے رہتے ہیں وہ ہمارے توقعات اور استحقاق سے کہیں زیادہ ہے۔

حالتوں کا موازنہ آج کل کے عوائدِ رسمیہ (یعنی ایٹیکیٹ) کو دیکھنے کو خلافِ شائستگی سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ تنقید کا ایک ضروری عنصر ہے، لیکن میں اس وقت ان کو ان کے دائرے کے دوسرے خلاقینِ سخن سے ٹکرانا نہیں چاہتا، صرف یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ جس طرح یہ اپنے حلقہ میں غالباً سب سے کم عمر مصنف ہیں، ادبی حیثیت سے نسبتاً اتنے ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ اس دماغی فوقیت کا راز صرف یہ ہے کہ خوش نصیب شبلی نے اپنی وہبی اور اکتسابی قوتوں کی رعایت سے جو وسیع موضوع بحث اختیار کیا وہ بلا استثناء اوروں کی دسترس سے باہر تھا۔ اس سے زیادہ موزونیت لائقِ رشک ہے جو قواماً ان کے حصۂ تصنیف کا ایک خاصہ ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ و لٹریچر، فلسفہ و عقائد سے متعلق جس قدر مواد یہ یکجا کرسکے، قدیم تاریخ کا گویا نچوڑ ہے۔

تاریخ اسلامی کی نسبت ایک زمانہ میں یورپ نے جس قدر متعصبانہ رائے قائم کی تھی، اب رفتہ رفتہ ان سے دست بردار ہوتا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں جو ہر قسم کی دماغی ترقیات کا دور ہے، واقعات کا ایک معیارِ صداقت قائم ہو گیا ہے۔ ہر واقعہ کی جانچ اجتماعی، اخلاقی اور فلسفیانہ حیثیت سے کی جاتی ہے۔ چنانچہ علمائے مستشرقین کی توجہ سے جدید سلسلۂ اکتشافات میں ایک نیا لٹریچر پیدا ہو گیا ہے، جس میں ہمدردانہ التفات کے ساتھ ایک طرح کی سنجیدگی اور بلند نظری پائی جاتی ہے لیکن باوصف اس حسن ظن کے جو جماعت مستشرقین کی طرف سے پیدا ہو چکا ہے، ان کے خیالات کا بیشتر حصہ نظر ثانی چاہتا ہے۔

اس قسم کی مثالیں کم نہیں ہیں جن میں مغربی علماء کی اجتہادی لغزشیں اب بھی محسوس ہوتی ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ استخراج نتائج میں عمداً بے پروائی سے کام لیا گیا ہے۔ لیکن علامہ شبلی نے ہم کو غیروں سے قریب قریب بے نیاز کردیا ہے۔ یہ جس طرح قدیم تاریخ اور لٹریچر کے جامع ہیں، آج کل کے فلسفیانہ انتقادات اور نکتہ سنجیوں سے آشنا ہی نہیں بلکہ یہ مذاق ان میں اس قدر رچا ہوا ہے کہ ان کے طے کردہ مسائل جو دنیا کے سامنے پیش کئے گئے ہیں، اس حد تک کامل ہیں کہ زمانۂ آئندہ بلکہ ’’بعیدِ آئندہ‘‘ میں بھی ان پر کوئی معتدبہ اضافہ نہ ہو سکے گا۔ اسی طرح ان کے اجتہادات کا جن کو تاریخی ’’الہامات‘‘ کہیے، بیشتر حصہ میرا خیال ہے کہ مدتوں متروک ہونے کے لائق نہیں ہوگا۔ اس سے زیادہ شبلی کے غیرفانی ہونے کا ثبوت کیا ہوگا۔

اگر موجودہ نسل کے لیے دماغی اور عقلی ترقی کے ساتھ اخلاقی تکمیل کی بھی ضرورت ہے تو میں خیال کرتا ہوں کہ شبلی نے تاریخی سلسلہ میں جس قدر مذہبی لٹریچر پیدا کر دیا ہے۔ وہ ہمارے لیے کافی سے زیادہ ہے۔ خاص کر اس جدّت کے لحاظ سے فاضل شبلی نے ایک طرف تو ’’بڑے میاں‘‘ یعنی مذہب کی پگڑی نہیں اتاری اور ساتھ ہی یورپ کے نوخیز چلتے پرزوں یعنی فلسفہ اور سائنس کے سامنے تیرہ سو برس کے بوڑھے سے ہاتھ نہیں جڑوائے بلکہ دونوں میں مصافحہ کرا دیا۔ یہ معتدل روش جو اس ’’ادبی نزاع‘‘ میں اختیار کی گئی ہے، لائق رشک شبلی ہی کا حصہ تھا جو ہمارے متفق علیہ پیشوائے علمی ہیں ۔

ان کی ثقاہت نے جہاں مذہب کی حق تلفی نہیں ہونے دی، سائنس و فلسفہ کی مغائرت بھی دور کر دی اور ان کو مذہب کا دست و بازو بنا دیا۔ آئندہ زمانہ میں جب ہماری عقلی ترقیات کا شباب ہوگا، شبلی کو اپنی مساعی جمیلہ کی پوری داد ملے گی، تاہم آج کل کا تعلیم یافتہ طبقہ جو عموماً مذہب سے بے پروا ہے، مذہب فطری یعنی حکیمانہ اسلام سے دست بردار نہ ہو سکے گا۔ منقول کی تطبیق کی غایت اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے جو شبلی کی درد سری کا بجائے خود ایک قیمتی صلہ ہے۔

مصری اور ترکی لٹریچر میں تاریخی مذاق جس قدر موجود ہے، ہم اس سے ناواقف نہیں ہیں لیکن جن مضامین پر وہاں سرگرمی سے طبع آزمائیاں ہورہی ہیں، وہ شبلی کے ہاں فرسودہ اور مسائل ابتدائی ہیں جن کو فاضل مؤرخ کی سرسری جنبشِ قلم مدت ہوئی ایک سے زیادہ موقع پر طے کر چکی ہے۔ سچ یہ ہے کہ شبلی بہ لحاظِ جامعیت اور وسیع النظری اور نیز مؤرخانہ تدقیق اور اکمالِ فن کی حیثیت سے آج یورپ کے بڑے سے بڑے مؤرخ سے پہلو بہ پہلو ہو سکتے ہیں۔ یورپ کو شکایت ہے کہ مسلمانوں میں متقدمین بلکہ متاخرین میں بھی کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جسے صحیح معنوں میں اگر حفظِ روایات سے قطع نظر کی جائے تو ’’مؤرخ‘‘ کہنا درست ہو، یعنی استقصائے روایات کے سلسلہ میں جہاں اصلی ماخذوں کی چھان بین کی گئی، غیرمرتب مواد سے کسی دور میں ایسے نتائج حاصل نہیں کیے گئے جن میں طبیعت انسانی کے اقتضا، زمانہ کے ماحول اور خصائص طبعی یا قرائن عقلی سے مدد لی گئی ہو۔
ابن خلدون کا نام بار بار لیا جاتا ہے جس نے تاریخ پر فلسفہ کا رنگ چڑھایا مگر خود اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے خیالات قوت سے فعل میں نہ آ سکے۔ یہ بالکل صحیح ہے لیکن آج ہم بیسویں صدی کے ایک فاضل مؤرخ کو پیش کرتے ہیں جس کا دائرۂ معلومات اس قدر وسیع ہے کہ وہ اپنے سلسلۂ تحقیقات کی فروگذاشت کی تلافی کرتا جاتا ہے اور اگر وقت نے مہلت دی اور اس کا تخیل پورا ہو سکا تو تاریخ اسلامی کے مہماتِ مسائل ایک ایک کرکے طے کر دیے جائیں گے۔

شبلی ہم میں پہلے شخص ہیں جنھوں نے تاریخ و فلسفہ میں ربط باہمی پیدا کیا اور ان جواہر عقلی کی تحلیل و ترکیب اس طرح کر سکے کہ لٹریچر میں ایک خاص امتزاج پیدا ہو گیا ہے جس کے آثار ان کے مستقل سرمایۂ تصنیفات کے سوا ان کے متفرق مضامین میں بھی ملتے ہیں جو مدتوں ان کے قلم کے سایہ میں مسلسل طور پر وقف عام ہوتے رہے۔

(اردو کے ممتاز ادیب، نقاد اور مضمون نگار مہدی افادی کے مضمون سے اقتباس)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں