The news is by your side.

Advertisement

شریف خاندان کے ملازم کے انکشافات حمزہ شہباز کے گلے کا پھندہ بن گئے

لاہور: قومی ادارہ احتساب (نیب) کی زیر حراست 2 ملزمان قاسم قیوم اور فضل داد کے انکشافات کے بعد حمزہ شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، مذکورہ ملزمان نے شریف خاندان کی آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں مدد کی۔

تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ احتساب (نیب) کی جانب سے حمزہ شہباز پر لگائے گئے الزامات کی تفصیلات اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلیں۔ حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار قاسم قیوم اور فضل داد کے انکشافات کے بعد جاری کیے گئے۔

قاسم قیوم منی چینجر کا غیر قانونی کاروبار کرتا تھا، قاسم نے غیر قانونی طور پر اکاؤنٹ میں ڈالرز اور درہم منتقل کیے، رقم شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔

دوسرا ملزم فضل داد عباسی شریف گروپ کا پرانا ملازم ہے، ملزم فضل داد سلمان شہباز کے پاس سنہ 2005 سے کام کر رہا تھا۔ فضل داد مختلف لوگوں سے رقوم جمع کر کے قاسم قیوم کو پہنچاتا تھا اور قاسم مشکوک ٹرانزیکشنز سے رقوم شہباز خاندان کو منتقل کرتا تھا۔

ملزمان رقوم اپنے ملازمین کے شناختی کارڈ کے ذریعے بھجوایا کرتے تھے، ملازمین کو رقوم بھیجنے سے متعلق کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کرتے تھے۔

عدالت نے گزشتہ روز دونوں ملزمان کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا تھا، عدالت نے دونوں کو 19 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ ملزمان سے تحقیقات میں انکشافات پر چیئرمین نیب نے حمزہ شہباز کے وارنٹ کی منظوری دی تھی۔

نیب ٹیم نے گزشتہ روز حمزہ شہباز کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا جس کا مقصد حمزہ شہباز کو گرفتار کرنا تھا، نیب ٹیم کے پاس وارنٹ گرفتاری بھی موجود تھا۔

تاہم اس موقع پر حمزہ شہباز کے محافظوں نے نیب اہلکاروں پر تشدد کیا اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، صورتحال ناخوشگوار ہونے پر نیب ٹیم گرفتاری کی کارروائی مکمل کیے بغیر ہی وہاں سے روانہ ہوگئی۔

نیب اعلامیہ کے مطابق ٹیم سپریم کورٹ کے فیصلےکی روشنی اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر حمزہ کی گرفتاری کے لیے گئی تھی۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ نیب حکام ملزم حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ لے کر گئے تھے، نیب کو کسی ملزم کی گرفتاری کے لیے پہلے سے آگاہ کرنا ضروری نہیں، حمزہ شہباز کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کی گئی، کار سرکار میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں