زمانہ کی نیرنگیاں مشہور اور اس کی تلوّن مزاجیاں ضربُ المثل ہیں۔ وہ سدا ایک حال پر نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ ایک چال پر نہیں چلتا۔ وہ گرگٹ کی طرح برابر رنگ بدلتا رہتا ہے۔
وہ اس پتھر کی طرح جو پہاڑ کی چوٹی سے لڑھکایا جائے، ہزاروں پلٹے کھاتا چلا جاتا ہے۔ وہ جو روپ بھرتا ہے اس کے چہرہ پر کھل جاتا ہے۔ وہ جو ٹھاٹھ بدلتا ہے اس کا رنگ ساری مجلس پر چھا جاتا ہے۔ وہ کبھی دن کی روشنی میں اور کبھی رات کی تاریکی میں، کبھی گرمی کی تپش میں اور کبھی جاڑے کی ٹِھر میں ظہور کرتا ہے، پر کسی بھیس میں اس کا رنگ جمے بغیر نہیں رہتا۔
جب وہ دن کا بانا بدلتا ہے تو رات کے سارے عمل باطل کر دیتا ہے۔ سوتوں کو نیند سے جگاتا ہے۔ نکموں کو کام پر لگاتا ہے۔ طبیعتوں سے سستی کو دور کرتا ہے اور دلوں کو امنگوں سے بھر دیتا ہے۔ جب وہ رات کا برقع اوڑھتا ہے تو دن کی ساری کائنات حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتا ہے۔ مزدوروں کا دل محنت سے اچاٹ کرتا ہے، جفاکش کو بسترِ راحت کی طرف کھینچ کر لاتا ہے اور ساری دنیا پر غفلت کا پردہ ڈال دیتا ہے۔ گرمی میں اس کی بازی کا نقشہ کچھ اور ہے اور جاڑے میں اس کی حکومت کا ڈھنگ کچھ اور۔
مبارک ہیں وہ جنہوں نے اس کے تیور پہچانے اور اس کی چال ڈھال کو نگاہ میں رکھا۔ جدھر کو وہ چلا اس کے ساتھ ہو لیے۔ اس نے رخ پھیرا، اس کے ساتھ پھر گئے۔ گرمی میں گرمی کا سامان کیا اور جاڑے میں جاڑے کی تیاری کی۔ دن کو دن کی طرح بسر کیا اور رات کو رات کی طرح کاٹا اور بدنصیب ہیں وہ جنہوں نے اس کی پیروی سے جی چرایا اور اس کی فراہمی سے ناک چڑھائی۔ گرمی پڑنے پر انہوں نے جاڑے کے کپڑے نہ اتارے اور ہلکے پھلکے نہ بنے۔ دن نکلا پر انہوں نے کروٹ نہ بدلی اور خوابِ شبینہ سے بیدار نہ ہوئے اور اب وہ بہت جلد دیکھیں گے کہ پیچھے کون رہا اور منزل تک کون پہنچا؟
جو لوگ زمانے کی پیروی نہیں کرتے وہ گویا زمانے کو اپنا پیرو بنانا چاہتے ہیں مگر یہ ان کی سخت خام خیالی ہے۔ چند مچھلیاں دریا کے بہاؤ کو نہیں روک سکتیں اور جھاڑیاں ہوا کا رخ نہیں پھیر سکتیں۔ اسی لیے ایک پختہ کار شاعر نے کہا ہے۔
زمانہ با تو نسازد، تو با زمانہ ستیز
اور عرب کے ایک حکیم کا قول ہے کہ ’’در مع الدھر کیف ما دار (یعنی جدھر کو زمانہ پھرے اس کے ساتھ پھر جاؤ) شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ ’’صرھیولی لکل صورۃ۔‘‘ (یعنی اپنی ذات میں ایسی قابلیت پیدا کرو کہ جس رنگ کو چاہے فوراً قبول کر لے) یہ اس لیے فرمایا کہ زمانہ کبھی انقلاب سے خالی نہیں رہتا اور اس کا مقابلہ انسانِ ضعیف البنیان سے نہیں ہو سکتا۔ پس انسان میں ایسی قابلیت ہونی ضرور ہے کہ جیسی ضرورت دیکھے ویسا بن جائے تاکہ زمانے کا کوئی انقلاب اس کو سخت صدمہ نہ پہنچائے۔ آندھی کے پُر زور حملے انہیں تناور درختوں کو نقصان پہنچاتے ہیں جو اپنی جگہ سے ٹلنا نہیں چاہتے پر چھوٹے چھوٹے لچک دار پودے جو ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ جھک جاتے ہیں ہمیشہ برقرار رہتے ہیں۔ اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عارضی یا چند روزہ کامیابی متقضائے وقت کی مخالفت میں بھی حاصل ہو سکتی ہے مگر جو لوگ دنیا میں آ کر کامیابی کا پورا پورا استحقاق حاصل کر گئے، وہ وہی تھے جنہوں نے متقضائے وقت کو ہاتھ سے نہ دیا اور جیسا زمانہ دیکھا ویسا بن گئے۔
(اردو تنقید کے بانیوں اور ’یادگارِ غالب‘ کے مصنّف الطاف حسین حالی کے ایک مضمون سے اقتباس)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


