بدھ, اگست 12, 2026
اشتہار

زیادہ دیر تک سونا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟ تحقیق نے چونکا دیا

اشتہار

حیرت انگیز

امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں معمول سے زیادہ دیر تک سونا الزائمر کی بیماری سے منسلک ابتدائی علامات میں شامل ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص مستقل طور پر رات میں ساڑھے آٹھ گھنٹے سے زیادہ سوتا ہے تو اس کے دماغ میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں جو بعد میں الزائمر کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق نیند اور الزائمر کا آپس میں گہرا تعلق ہے، نیند کی کمی دماغ میں نقصان دہ پروٹینز(ایمیلائیڈ بیٹا) کو جمع کرتی ہے، جو یادداشت کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

اسی طرح دن میں زیادہ سونا یا رات کی خراب نیند بھی اس مہلک دماغی بیماری کی ابتدائی علامات میں شامل ہوسکتی ہے۔

امریکا کی یو ٹی ہیلتھ سان انتونیو کی تحقیق جو طبی جریدے الزائمرز اینڈ ڈیمنشیا میں شائع ہوئی، کے مطابق محققین نے فریمنگھم ہارٹ اسٹڈی میں شامل 2 ہزار410 افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ شرکاء کی اوسط عمر 70 سال تھی جبکہ ان میں نصف سے زائد خواتین شامل تھیں۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے شرکاء کے معمول کے مطابق سونے کے دورانیے کا موازنہ دماغی صحت سے متعلق مختلف خون کے بائیو مارکرز سے کیا۔ اس دوران فاسفوریلیٹڈ ٹاؤ 181 (p-tau181) نامی پروٹین نمایاں طور پر سامنے آیا، جو الزائمر کے مریضوں کے دماغی خلیات میں جمع ہونے سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد روزانہ ساڑھے آٹھ سے نو گھنٹے تک سوتے تھے، ان کے خون میں p-tau181 کی مقدار نسبتاً زیادہ تھی، جبکہ دس گھنٹے یا اس سے زیادہ نیند لینے والوں میں اس پروٹین کی سطح مزید بلند دیکھی گئی۔

محققین کے مطابق عمر، جنس، ذہنی دباؤ، نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری (سلیپ اپنیا) اور موروثی خطرات جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے باوجود یہی رجحان برقرار رہا۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ زیادہ نیند لینا براہِ راست الزائمر کا سبب بنتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ زیادہ نیند کی ضرورت دراصل دماغ میں شروع ہونے والی ابتدائی تبدیلیوں کی علامت ہو، جو یادداشت متاثر ہونے سے پہلے ہی ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ بیماری، شدید تھکن یا ذہنی دباؤ کے باعث کبھی کبھار زیادہ سونا تشویش کی بات نہیں، لیکن اگر کوئی بزرگ واضح وجہ کے بغیر مستقل طور پر روزانہ نو سے دس گھنٹے نیند لینے کا عادی ہو جائے تو بہتر ہے کہ وہ دماغی صحت کے جائزے کے لیے اپنے معالج سے مشورہ کرے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں