site
stats
صحت

گاجر کا تیل بالوں کو بڑھانے میں مفید

کراچی: بالوں کو لمبا، گھنا اور چمکدار رکھنے کی خواہش ہر شخص رکھتا ہے تاہم ہمارے روز مرہ کے معمولات اور غذا کی وجہ سے یہ آرزو پوری نہیں ہوتی۔

خوبصورتی اور بالوں کا براہ راست تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کو گھنے، کالے اور لمبے بالوں والا شخص نظر آجائے تو دل میں ایک تمنا پیدا ہوجاتی ہے اور پھر آپ چند دن کے لیے بالوں کا خیال رکھنے لگتے ہیں تاہم یہ سلسلہ زیادہ عرصے نہیں چل پاتا۔

روکھے پھیکے، بے جان بال ایک بہترین شخصیت کو ماند کر سکتے ہیں اس کے برعکس خوبصورت، جاندار اور چمکدار بال کسی معمولی شخصیت کو بھی نہایت شاندار اور پرکشش بنا کر پیش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بال لمبے کرنے کا آسان نسخہ

بالوں کو لمبا، گھنا اور چمکدار رکھنے کے لیے مختلف تجربات کیے جاتے ہیں حتیٰ کہ کچھ لوگ تو ادویات تک کھانے سے گریز نہیں کرتے جس کے نتیجے میں بعض اوقات انہیں گنج پن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہم آپ کو بتاتے ہیں بالوں کو سیاہ، چمکدار اور لمبے کرنے کا آسان طریقہ

سردیوں میں عام طور پر بالوں میں خشکی کی شکایت ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بالوں کی نشوونما بھی رک جاتی ہے تاہم انہی سردیوں میں ایک سبزی ایسی آتی ہے جو بالوں کے مسائل سے چھٹکارا دینے میں کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اگر آپ کے سر میں خشکی ہے اور اس کی وجہ سے بال تیزی سے گر رہے ہیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ سردیاں آپ کے لیے فائدے مند ہیں کیونکہ سردیوں کے موسم میں گاجر کی پیدوارا بڑھ جاتی ہے جس کا تیل آپ کو بالوں کے مسائل سے نجات دلا سکتا ہے۔

تیل بنانے کا طریقہ

• سرسوں کا تیل

• خشک گاجر

• ثابت خشک ملیٹھی

• لیموں

• ثابت لال مرچ

• ویجیٹبل آئل

ایک برتن میں سرسوں کے  تیل کو ڈال کر اس میں تمام اجزا شامل کریں اور پھر اُس میں لیموں کے چند قطرے ملائیں، اب اسے چولہے پر 15 منٹ تک ہلکی آنچ پر پکائیں (جن لوگوں کے سر میں زخم ہے وہ لوگ لال مرچ استعمال نہ کریں)۔

جب تیل پک جائے تو اسے چھان کر ایک علیحدہ بوتل میں رکھ لیں اور ہفتے میں 2 بار اس سے مالش کریں ایسا کرنے سے  نہ صرف آپ کے بال تیزی سے لمبے اور گھنے ہوں گے بلکہ ان میں چمک بھی پیدا ہو گی۔

نوٹ : جن لوگوں کے سر میں کسی بھی قسم کا زخم ہے وہ طبیب سے مشورے کے بعد اس تیل کو استعمال کرے۔


 اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top