کراچی فش ہاربر پر نایاب غیر ملکی مچھلی کی آمد پر ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے حملہ آور مچھلیاں آبی حیات اور ماہی گیری کی معیشت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سکھر کے قریب آبی ذخیرے سے ایمازون سیل فن کیٹ فش برآمد ہوئی ہے غیر مقامی حملہ آور مچھلی سندھ اور جنوبی پنجاب میں پھیل چکی ہے۔
ایمازون سیل فن کیٹ فش مقامی آبی حیات اور ماہی گیری کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایمازون سیل فن کیٹ مچھلی موٹے اور مضبوط جسم، ہڈیوں کی پلیٹوں سے ڈھکی جلد رکھتی ہے۔
یہ بنیادی طور پر لاطینی امریکا کی مقامی نسل ہے تاہم دنیا بھر میں ایکویریم مچھلی کے طور پر مقبول ہے۔ مچھلی غلطی سے پاکستان کے قدرتی آبی ذخائر میں داخل ہوئی اور اب سندھ اور جنوبی پنجاب میں تیزی سے پھیل چکی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 26 غیر ملکی مچھلیوں کی اقسام حملہ آور ہیں جو مقامی نسلوں کو خوراک اور جگہ سے محروم کر رہی ہیں۔
منچھر اور کینجھر جھیل میں تلپیا کے باعث مچھلی کی پیداوار میں شدید کمی ہے۔ غیر ملکی مچھلیوں نے ماہی گیروں کی معاشی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے ریڈ بیلڈ پیکو مچھلی دریائے چناب اور کندھ کوٹ میں پائے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔
حملہ آور مچھلیاں قومی حیاتیاتی تنوع کے لیے بڑا خطرہ ہیں اور ان غیر ملکی مچھلیوں کی درآمد پر کڑی نگرانی اور قرنطینہ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی سفارش ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے پھیلاؤ کے بعد اب اس کا مکمل خاتمہ یا کنٹرول تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق ایمازون سیل فن کیٹ فش ان 26 غیر مقامی مچھلیوں میں شامل ہے جو پاکستان میں جان بوجھ کر یا حادثاتی طور پر متعارف کروائی گئیں، یہ آبی حیاتیاتی تنوع کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہیں یہ مچھلیاں مقامی نسلوں سے خوراک اور جگہ چھین لیتی ہیں، انہیں شکار کرتی ہیں، بیماریاں پھیلاتی ہیں اور آبی ماحول کو تبدیل کر دیتی ہیں۔




