The news is by your side.

ٹوئٹر کے بعد ایمیزون نے بھی بھارتیوں کو بڑا دھچکا دے دیا

نئی دہلی: ٹوئٹر کے بعد دنیا کے سب سے بڑے ای کامرس پلیٹ فارم ایمیزون نے بھی بھارتیوں کو نوکری سے برخاست کرنا شروع کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایمیزون کے سی ای او اینڈی جیسی نے بذات خود اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اٹھارہ جنوری سے شروع ہونے والی اپنی افرادی قوت سے 18 ہزار سے زیادہ ملازمین کو نوکری سے برخاست کردے گا، یہ برطرفی کمپنی میں کام کرنے والے کل ملازمین کا تقریباً 6 فیصد ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق ان 18 ہزار میں سے  ایک  ہزار ہندوستانی ملازمین ہونگے، ایمیزون کی جانب سے تمام ڈیپارٹمنٹ میں برطرفیوں کے اعلان کے بعد بھارت میں ایمیزون نے رضاکارانہ علیحدگی پروگرام متعارف کرادیا ہے، جسے حاصل کرتے ہوئے مذکورہ ملازم تمام تر فوائد حاصل کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹوئٹر کا کمپنی کے دفاتر عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان

ادھر بھارت میں موجود آئی ٹی کمپنیوں کے ملازمین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی پونے کی ایک یونین این آئی ٹی ای ایس نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایمیزون کے غیراخلاقی اور غیر قانونی برطرفی پر مبنی ای میل کے بارے میں انکوائری کریں۔

واضح رہے کہ ایمیزون کے بھارت میں تقریباً 1 لاکھ ملازمین ہیں اور اس فیصلے سے ایک فیصد ملازمین پر اثر پڑے گا۔

اس سے قبل گذشتہ سال ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر خریدنے کے بعد اس کے بھارتی نژاد سی ای او کو نوکری سے برخاست کیا گیا تھا جبکہ بھارت میں بھی ٹوئٹر کے متعدد ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں