site
stats
پاکستان

پاکستان آنیوالی بھارتی لڑکی کے اہلخانہ کو ہندو انتہاء پسندوں کی دھمکیاں

گجرات : پسند کی شادی کرنے کیلئے پاکستان آنے والی بھارتی لڑکی امیرالنساء کے گھر والوں کو بھارتی میڈیا اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔

امیر النساء نے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے مدد کی اپیل کردی۔تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کی پاکستان دشمنی اپنے عروج کو پہنچ گئی۔

محبت کی شادی کیلئے پاکستان آنے والی امیر النساء کے گھر والوں کو ہرااساں کرنا شروع کردیا، امیرالنساء کا کہنا ہے کہ جب سے پاکستان کے ٹی وی چینلز پر شادی کی خبر نشر ہوئی ہے اس روز سے انہیں مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

امیر النساء کا کہنا تھا کہ اس نے پاکستانی کی محبت میں اپنا گھربار سب کچھ چھوڑ دیا اب اگر ویزہ نہ ملنے کے باعث وہ انڈیا واپس جاتی ہے تو شاید کبھی بھی واپس پاکستان نہ آ سکے۔

امیر النساء نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ اس کی مدد کی جائے، امیر النساء کے خاوند اعجاز علی کا کہنا تھا کہ بھارت میں پاکستان کا نام لینا جرم ہے مگر اس کی بیوی امیرالنساء اس سے شادی کرنے پاکستان آ گئی اب یہ پاکستان کی عزت ہے، اگر امیر النساء واپس انڈیا گئی تو بھارتی انتہا پسند تنظیمیں اسے قتل کر دیں گی۔

واضح رہے کہ بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ کے ضلع دھن باد کے گاؤں سا کی رہائشی 22 سالہ امیرالنسا کی ایک برس قبل گجرات کے نوجوان اعجازعلی سے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک کے ذریعے دوستی ہوئی۔

یہ دوستی کچھ عرصے بعد محبت میں بدلی اور پھر یوں بھارت کی امیر النساء پاکستان کے اعجاز علی کی محبت میں اپنا وطن چھوڑ آئی، جہاں ان دونوں نے جگرات کی مقامی عدالت میں کورٹ میرج کر لی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top