site
stats
عالمی خبریں

یروشلم کےحق میں ووٹ نہ دیا تو امداد بند کردیں گے، ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں آج ہونے والی ووٹنگ میں جن ممالک نے یروشلم کو دارالخلافہ تسلیم کرنے کے حق میں ووٹ نہ دیا تو اس ملک کی امداد بند کریں گے۔

اس بیان سے قبل اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں سخت لب و لہجہ اپناتے ہوئے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں ہمیشہ امریکا سے زیادہ توقعات وابستہ کی جاتی ہیں اور امریکا ان توقعات پر پورا بھی اترتا ہے لیکن جب امریکا اپنی عوام اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اعتراض کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہمیں ایسے لوگوں کی جانب سے اعتراض کی امید توقع نہیں رکھتے جنہیں امریکا امداد دیتا رہا ہے لیکن ایک ایسے انتخاب پر جس کا ہمیں پورا حق ہے اس پر اعتراض کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


 امریکی ہٹ دھرمی برقرار، بیت المقدس پر قرارداد ویٹو


نیکی ہیلی نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا کہ جمعرات کو اقوام متحدہ میں امریکا کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کے خلاف ووٹ دیا جائے گا اور ہمارے آئینی حق پر شدید تنقید بھی کی جائے گا اور ایسے کرنے والے ممالک کے نام ہم نوٹ کریں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نکی ہیلی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے اپنے مخصوص قابل اعتراض لب و لہجے میں کہنا تھا کہ بیت المقدس کے معاملے پر ووٹنگ سے پہلے امریکی صدر دھمکیوں پر اترآئے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنی مستقل مندوب سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے مزید کہا کہ یروشلم کے خلاف ووٹ دینے والے ممالک کی امداد میں کٹوتی یا مکمل طور پر بند کردی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آج بیت المقدس کے معاملے پر ووٹنگ ہوگی اور امریکا سے امداد لینے والے ممالک کو پتہ چل جائے گا، ہم تمام صورت حال کا بہ غور جائزہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازعہ علاقے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم  کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ امریکا یروشلم کے خلاف آنے والی قرارداد کو اقوام متحدہ میں پہلے ہی ویٹو کرچکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top