site
stats
پاکستان

ماہ رمضان میں سرعام کھانے پینے پر 3 ماہ کی سزا کا فیصلہ

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے احترام رمضان آرڈیننس 1981 میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ ترمیمی بل کے تحت آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والے ہوٹل مالکان پر جرمانے کی رقم 500 روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کردی گئی ہے۔

بل کے مطابق رمضان میں روزہ کے اوقات کے دوران کھلے عام کھانے پینے اور سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو 500 روپے جرمانہ اور 3 ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔

اس ضمن میں آرڈیننس کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹی وی چینلز اور سینما ہاؤسز پر بھی 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔

مذکورہ آرڈیننس میں ترمیم کا بل رواں برس 16 جنوری کو سینیٹر تنویر خان کی جانب سے پیش کی گیا تھا جسے آج اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں غور و حوض کے بعد منظور کرلیا گیا۔

مزید پڑھیں: رمضان پر سعودی حکومت کا پاکستانیوں کے لیے تحفہ

بل پیش کرتے ہوئے سینیٹر تنویر خان نے آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں اراکین نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ماہ رمضان میں سینما ہاؤسز کو صبح اور افطار کے بعد 3، 3 گھنٹوں کے لیے مکمل طور پر بند کردیا جائے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات شاہ نے تجویز دی کہ سینما ہاؤسز کو پورے ماہ رمضان کے لیے بند کردیا جائے۔

رویت ہلال کمیٹی کا مسئلہ

سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران رویت ہلال کمیٹی اور چاند کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔

اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ رویت ہلال کمیٹی میں ہر صوبے سے 2 جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت سے ایک نمائندے کو شامل کیا جائے۔

کمیٹی میں محکمہ موسمیات اور ادارہ برائے خلا و فضا (سپارکو) سے بھی نمائندگان کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ چاند دیکھنے کے معاملات میں کم سے کم تنازعے کا امکان ہو۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top