The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں کشتی حادثے میں ڈوبنے والوں کی تعداد 17 ہوگئی

واشنگٹن : امریکی ریاست میسوری میں کشتی حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سترہ ہوگئی ہے جس میں 4 بچے بھی شامل ہیں جبکہ ڈوبنے والوں میں 9 کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست میسوری کے حکام کی جانب سے جمعرات کے روز ٹیبل راک نامی جھیل میں ڈوبنے والے ستہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے، جن کی عمریں 1 سے سترہ برس کے درمیان ہیں، حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں 31 افراد سوار تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ریسکیو اہلکاروں نے ریاست میسوری کے شہر برانسن میں واقع جھیل میں ڈوبنے والوں میں ایک خاتون ٹیا کولمین کو بچالیا ہے جس کا کہنا ہے کہ کشتی میں سوار  میرے 11 رشتے داروں میں نو ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔

کشتی حادثے میں ڈوبنے والے خاندان کی یادگار تصویر

امریکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ کشتی حادثے میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے افراد میں 4 بچے بھی شامل ہیں، ٹیا کولمین نے میڈیا کو بتایا کہ المناک حادثے میں میرے ساس، سسر، شوہر اور بچے بھی دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ ہلاک ہوگئے، ہماری تین نسلیں ختم ہوگئیں۔

برانسن کے سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کشتی ڈونبے کا واقعہ کپتان کی غفلت کے باعث پیش آیا ہے، جس نے کہا تھا کہ سفر بہت پرسکون گزرے گا لائف جیکٹس کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات نے خراب موسم کے باعث سمندری طوفان اور جھیل میں طغیانی کے خطرے سے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا، اس کے باوجود کشتی چلانے والی کمپنی نے کوئی حفاظتی انتظامات نہیں کیے جبکہ کشتی میں لائف جیٹکس بھی نہیں رکھی گئیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ کشتی نے کچھ فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ جھیل میں طغیانی پیدا ہوگئی اور بلند لہروں کے باعث کشتی الٹ گئی، جس نتیجے میں 17 افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جھیل میں ڈوبنے والے افراد میں کشتی کا کپتان بھی شامل ہے۔

امریکا کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے کشتی حادثے کہ تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے تفتیشی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک کمپنی کا لائسنس بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں