The news is by your side.

Advertisement

امریکا: والدین کو کرایہ ادا نہ کرنے پرعدالت نے بیٹے کو گھر سے بے دخل ہونے کا حکم سنا دیا

واشنگٹن : امریکا کی ریاستی عدالت نے والدین کو نظر انداز کرنے اور گھر کا کرایہ ادا نہ کرنے پر 30 سالہ بیٹے کو گھر سے بے دخل کرنے کا حکم سنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی شہر نیو یارک میں میقم امریکی شہری مارک روٹونڈو اور ان کی اہلیہ کرسٹینا روٹونڈو نے رواں ماہ 7 مئی کو ریاست کی سپریم کورٹ میں اپنے بیٹے کو گھر سے بے دخل کرنے کے حوالے سے درخواست جمع کروائی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جمعرات کے روز ریاستی سپریم کورٹ کے جج ڈونلڈ گرین ووڈ نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے بوڑھے والدین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے 30 سالہ بیٹے مائیکل روٹونڈو کو 8 برس کا کرایہ ادا کرنے کے بعد گھر سے نکل جانے کا حکم سنادیا۔

واضح رہے کہ مارک اور کرسٹینا روٹونڈو نے اپنے 30 سالہ بیٹے کو گھر سے بے دخل کرنے کے لیے پانچ مرتبہ نوٹس بھجوایا تھا اور نیا گھر تلاش کرنے میں مدد کے لیے گیارہ سو امریکی ڈالر کی پیشکش بھی کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مائیکل روٹونڈو نے جج گرین ووڈ سے آدھا گھنٹہ بحث کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے والدین سے برائے راست کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مائیکل نے عدالت میں کہاکہ  اس نے سوشل میڈیا پر ایک کیس دیکھا تھا جس کی بنیاد پر اس یہ دعویٰ کیا کہ مجھے گھر سے نکلنے کے لیے چھ ماہ کا وقت درکار ہے۔

سپریم کورٹ کے جج ڈونلڈ گرین ووڈ نے مائیکل کی دلیل کی تعریف کی، لیکن کیس کا فیصلہ  والدین کے حق میں دیا اور مائیکل کو گھر سے بے دخل ہونے کا حکم سنایا اور چھ ماہ کی مدت مانگے کو اشتعال انگیزی قرار دیا۔

خیال رہے کہ مائیکل روٹونڈو کے والدین نے عدالت میں درخواست جمع کروائی تھی کہ ان کا 30 سالہ بیٹا مائیکل روٹونڈو نہ تو گھر کا کرایہ ادا کرتا ہے اور نہ ہی کام کاج میں ساتھ دیتا ہے۔

والدین کا کہنا تھا کہ مائیکل روٹونڈو کام کاج نہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی نظر انداز کرتا ہے۔

واضح رہے کہ کرسٹینا اور مارک روٹونڈو نے مائیکل کو گھر سے بے دخل کیے جانے کے پانچ نوٹس دیئے اور نئی رہایش گاہ تلاش کرنے کے لیے 11 امریکی ڈالر کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن وہ پھر بھی گھر چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں