The news is by your side.

Advertisement

امریکا کو افغانستان میں امن کے لیے اپنی فوج نکالنا ہوگی: عمران خان

چین نے 450 حکومتی اہل کاروں کو کرپشن پر جیل میں ڈالا، کاش میں بھی ایسا ہی کر سکتا

نیویارک: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کا دہشت گردی کی جنگ کا حصہ بننا تاریخی غلطی تھی، 2008 میں امریکا آ کر کہا تھا افغانستان کا کوئی جنگی حل نہیں، امریکا کو افغانستان میں امن کے لیے اپنی فوج نکالنا ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان نیو یارک میں فارن ریلیشن کونسل میں اظہار خیال کر رہے تھے، انھوں نے افغانستان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پاک امریکا تعلقات پر گہری نگاہ ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کی جنگ کا حصہ بننا بڑی غلطی تھی، روس کے خلاف جنگ میں جہادیوں کو ہیرو بنایا گیا تھا، نائن الیون کے بعد پھر ہماری ضرورت پڑی، ہمیں کہا گیا جہادیوں کے خلاف جنگ کریں۔

انھوں نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف جہاد کے لیے مجاہدین گروپس کو یک جا کیا، جنگ ختم ہونے پر امریکا نے اُن گروہوں کو پاکستان پر چھوڑ دیا، نائن الیون کے بعد امریکی جنگ کا حصہ بننا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکا نے گروہوں کو پہلے یہ بتایا غیر ملکی طاقتوں سے لڑنا جہاد ہے، اب امریکا کہتا ہے غیر ملکیوں سے نہ لڑنا جہاد ہے۔

عمران خان نے کہا افغانستان کے حالات بہتر کرنا ہے، باڑ روکنا ہے تو 27 لاکھ مہاجرین واپس لے، افغان امن ڈیل پر دستخط ہونے والے تھے کہ ٹرمپ کے فیصلہ بدلنے کا پتا چلا، جنگ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا، امریکا کو افغانستان میں امن کے لیے اپنی فوج نکالنا ہوگی، افغانستان 40 سال سے مشکل حالات سے گزر رہا ہے، اب امن کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن افغانوں کا حق ہے، طالبان آج 2010 سے زیادہ مضبوط ہیں، جب رچرڈ ہالبروک سے مذاکرات ہوئے تھے، دنیا کو معلوم ہونا چاہیے آج کے طالبان 2001 والے طالبان نہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغان مسئلے کا واحد حل جنگ بندی اور مذاکرات ہیں، میرا نہیں خیال طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا طالبان سے مذاکرات کی بحالی کے لیے ٹرمپ سے بات کروں گا، افغان ڈیل پر دستخط ہوتے تو میں طالبان قیادت اور افغان حکومت کی ملاقات کراتا، خواہش ہے امریکا کی جانب سے طالبان ڈیل ختم کرنے سے پہلے ہم سے مشاورت کر لی جاتی،  ہو سکتا ہے صدر ٹرمپ نے دہشت گرد حملے کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا ہو، جب جنگ اور مذاکرات ساتھ ساتھ ہوں تو ایسے واقعات کا خدشہ رہتا ہے۔

عمران خان نے کہا واضح کرنا چاہتا ہوں اسلام دو نہیں ایک ہے، انتہا پسند یا معتدل اسلام جیسی اصطلاحوں کو مسترد کرتا ہوں، اسلام اقلیتوں کو تحفظ دیتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سایوں کے ساتھ امن پالیسی میں فوج کی حمایت حاصل رہی ہے، ہم کرتارپور کھول رہے ہیں، فوج ہمارے خلاف ہوتی تو مزاحمت کرتی، میں اشرف غنی سے بات اور مذاکرات کرتا ہوں، فوج کو کوئی اعتراض نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 200 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا۔

عمران خان نے کہا فوج نے سیکورٹی ایشوز کے باوجود حکومتی اقدامات کی حمایت کی، میں نے سادگی اختیار کی، پاک فوج نے اپنے بجٹ میں کٹوتی کی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فوج نے دفاعی بجٹ میں کمی کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا جمہوری حکومتوں میں اخلاقیات کی بنیاد پر حکمرانی ہوتی ہے، جمہوریت اخلاقی اقدار چھوڑ دے تو اختیار فوج کی جانب چلا جاتا ہے، جمہوری اقدار کے کرپٹ حکمرانوں کے باعث انھوں نے حق حکمرانی کھویا۔

وزیر اعظم نے کہا چین نے 450 حکومتی اہل کاروں کو کرپشن پر جیل میں ڈالا، میری خواہش ہے میں بھی پاکستان میں ایساہی کرتا، کاش کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ وہ کر سکتا جس طرح چین نے کیا، 30 سالوں میں 70 کروڑ افراد کو چین نے غربت سے نکالا، چین کا اصل فوکس تجارت پر ہے، چین نے ایسی کوئی ڈیمانڈ نہیں رکھی جس سے ہماری سالمیت کو خطرہ ہو، چین نے کبھی ہماری خارجہ پالیسی اور داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں