The news is by your side.

Advertisement

امریکا سے غیرملکی طلباء کو نکالنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ عدالت میں چیلنج

واشنگٹن : امریکا سے آن لائن کلاسز لینے والے غیرملکی طلباء کو نکالنے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کردیا گیا، مختلف جامعات کی جانب سے عدالتوں میں درخواست دائر کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کی دو جامعات نے آن لائن کلاسز لینے والے غیر ملکی طلبہ کو امریکا سے نکالنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو ضلعی عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے عدالت سے غیر ملکی طلبہ کے ویزوں کی منسوخی رکوانے کا مطالبہ کردیا، ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر لارنس باکو کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی طلبہ کے کیس کی بھرپور پیروی کریں گے۔

اس حوالے سے کارنل یونیورسٹی نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مقدمے میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے،

ہارورڈ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکم نامہ کسی خاص منصوبے کے تحت جاری کیا گیا، صدرٹرمپ نے اسکول نہ کھولنے والی ریاستوں کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی دے دی ہے۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو اسکول نہ کھولے گئے ان کی فیڈرل فنڈنگ بند کردوں گا۔

ان کے اس بیان کے جواب میں ترجمان ڈیموکریٹ کانگریس کمیٹی نے کہا ہے کہ صدرٹرمپ کے پاس فنڈنگ روکنے کا کوئی اختیار نہیں، انہوں نے تعلیمی ادارے کھولنے کی سی ڈی سی کی گائیڈ لائنزمسترد کردیں۔

صدرٹرمپ نے سی ڈی سی کو اسکولوں کیلئے نئی گائیڈ لائنز تیارکرنے کی ہدایت جاری کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ سی ڈی سی کی موجودہ گائیڈ لائنز انتہائی سخت ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ آن لائن کلاسز لینے والے غیر ملکی طلبہ امریکا میں قیام نہیں کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں : امریکہ میں مقیم غیر ملکی طلباء و طالبات کو نئی پریشانی کا سامنا

امریکی محکمۂ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے غیر ملکی طالب علموں کے لیے اعلان کیا تھا کہ آن لائن کلاسیں لینے والے غیر ملکی طالب علم اب امریکا میں نہیں رہ سکیں گے۔

امریکی حکومت کے اعلان کے مطابق اب آن لائن کلاسیں لینے والے غیر ملکی طالب علموں کا امریکا میں رہنا غیر قانونی قرار پائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں