site
stats
عالمی خبریں

چین جنوبی بحیرہ کی سمندری حدود کا قبضہ چھوڑ دے،امریکا

واشنگٹن : امریکا نے چین کو ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے جنوبی بحیرہ چین کی سمندری حدود کا قبضہ چھوڑ دے،جبکہ چین کے سفیر نے امریکی حکام کو بتا دیا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ یکطرفہ اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس کو چین کبھی بھی قبول نہیں کرےگا.

تفصیلات کے مطابق چینی سفیر نے کہا کہ امریکہ سمیت کچھ ممالک اس خطے میں چین کے گرد گھیرا ڈالنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ان کو منہ کی کھانا پڑےگی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ امریکہ کی خواہش پر ہی دنیا کا نظام چلے،وقت بدل چکا ہے اور ہر ایک کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنےملک کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنائے اور چین اپنے مفاد کے لیے پوری دنیا میں کام کر رہا ہے.

اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر چارلس نےجنوبی بحیرہ کی سمندری حدود پر بات کرتے کہا کہ جنوبی بحیرہ چین کا سمندری علاقہ بیشمار قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور سب کی نظریں اس پر ہیں لیکن چین کبھی بھی اس حدود سے پیچھے نہیں ہٹے گا،انہوں نے کہا کہ اگر حالات کشیدہ ہو گے تو یہ سمندری حدود ایک تباہ کن جنگ کا نقشہ پیش کرےگی.

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے کہ وہ اس حدود سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور اب اس نے” میں نہ مانو ” کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے سمندری حدود میں فوجی نقل و حرکت میں مزید اضافہ کر دیا ہے،وہاں خطرناک ہتھیاروں اور بھاری فوجی یونٹوں کی موجودگی امریکہ کو ایک پیغام ہے کہ اگر کسی کو جرات ہے تو وہ اس کو پیچھے دھکیل کر دکھائے.

دفاعی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ بھی چین کو پریشان نہیں کر سکا،بھارت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ امریکہ کے اشارے پر چین کے ساتھ کھلم کھلا محاذ آرائی کر سکے.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top